پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر، فری لانسرز کی آمدن میں 91فیصد اضافہ
وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کوفون ٹیپنگ کی اجازت دیدی
اسلام آباد: پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2025 میں یہ 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جب کہ فری لانسرز کی آمدن بھی 0.7 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ ہے۔
حکومت نے اس شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں قومی ڈیجیٹل بلیوپرنٹ پر عمل درآمد کرے گی۔
اسکلز پروگرام اور روزگار کے مواقع
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تین لاکھ نوجوان اس وقت اسکلز پروگرام کے تحت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جب کہ ہدف ایک ملین (10 لاکھ) نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارت فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو سہارا ملے گا۔
کم لاگت انٹرنیٹ اور انفراسٹرکچر اپ گریڈ
حکومت نے سب کے لیے کم لاگت اور تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کو ترجیح قرار دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی سب میرین کیبلز کے ذریعے گنجائش بڑھانے اور ٹاور فائبرائزیشن میں تیزی لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس وقت صرف 14 فیصد ٹاورز فائبر پر ہیں، جنہیں آئندہ تین برسوں میں مقامی شراکت داری کے ساتھ بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
رائٹ آف وے اصلاحات
انٹرنیٹ سہولیات کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ رائٹ آف وے فیس ہے۔ اسلام آباد میں سی ڈی اے نے اس فیس کو ختم کردیا ہے جب کہ 27 اگست کے سرکاری خط کے مطابق موٹروے (NHA) اور ریلوے بھی یہ فیس ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس سے قبل 36 روپے فی میٹر سالانہ فیس وصول کی جاتی تھی۔
یوتھ کے لیے اقدامات اور ٹیک پارکس
حکومت نے نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی پارکس اور 25 کو ورکنگ اسپیسز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں جلد 2,800 نشستوں کی سہولت دستیاب ہوگی۔
5G اور سپیکٹرم روڈمیپ
ٹیلی کام شعبے میں حکومت نے سپیکٹرم روڈمیپ جاری کیا ہے جس میں 600 میگا ہرٹز پر توجہ مرکوز ہے۔ حکام کے مطابق 5G سپیکٹرم کی نیلامی دسمبر 2025 تک مکمل ہوگی، جس کے بعد تین ماہ کے اندر اندر کمرشل رول آؤٹ ممکن ہے۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور نئی سرمایہ کاری
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لائسنسنگ طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے اور ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اوپن اسپیس پالیسی کے تحت متعدد نئی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
چیلنجز اور رکاوٹیں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق اگرچہ آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر میں نمو جاری ہے لیکن کوالٹی مسائل، سرمایہ کاری کی کمی، بجلی کے بحران اور بیک ہال/سب میرین انفراسٹرکچر کی محدودیت اس ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں۔ ملک میں اس وقت صرف 4 بین الاقوامی ڈیٹا سینٹرز زیر استعمال ہیں۔
مستقبل کے فوائد
حکومت کو توقع ہے کہ 5G نیلامی اور ڈیجیٹل اصلاحات سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ GDP، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں بہتری آئے گی
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










