موبائل سم صارفین کیلئے بڑی خبر آگئی
Important update for mobile SIM users; a major announcement has come from PTA
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سم ایکٹیویشن نیٹ ورک کا پردہ فاش کردیا۔
یہ نیٹ ورک ایک نجی موبائل کمپنی کے فرنچائز کے ذریعے چلایا جا رہا تھا جہاں جعلی بائیومیٹرک ویریفیکیشن سسٹم استعمال کرکے سیکڑوں سمز فعال کی گئیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے موصول ہونے والی باضابطہ شکایت پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کے دوران ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا جو جعلی بائیومیٹرک ڈیوائسز کے ذریعے غیر قانونی سمز جاری کرنے میں ملوث تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق فرنچائز مینیجر اپنے معاونین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کرتا اور قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر سمز جاری کرتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق یکم مارچ سے 31 مئی 2025 تک صرف دو ماہ میں 379 سمز فعال کی گئیں، جن میں سے 347 پنجاب کے شناختی کارڈز پر رجسٹر کی گئیں۔
کئی شہریوں نے اپنی شناختی معلومات کے غلط استعمال کی شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کراچی میں کسی بھی سم ایکٹیویشن سے بالکل لاعلم تھے۔ اس صورتحال نے شناختی چوری اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
کارروائی کے دوران ڈیجیٹل آلات اور شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں جبکہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید افراد کی گرفتاری کا امکان ہے جو اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
یہ آپریشن پی ٹی اے کی اُس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں بشمول ملتان، لاہور اور راولپنڈی میں غیر قانونی سم فروخت کے خلاف چھاپے مارے جا چکے ہیں۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک جعلی ایڈوائزری کو پی ٹی اے نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پانچ سمز کے استعمال پر موبائل فون بلاک کرنے کی کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









