اگر جنگ لڑنی ہے تو پھر جنگ ہو، پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، خواجہ آصف

اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ لڑنی ہے تو پھر جنگ ہو، پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، پارلیمنٹ اپنے وزیر اعظم کو بلی نہیں چڑھائے گی، وہ وقت گزر گیا جب وزیر اعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ پر سوالات اٹھتے رہے، ہم عوام میں جاکر اپنے رشتے کی تجدید کرتے رہے، ارکان اسمبلی لاکھوں ووٹ لے کر آئے ہیں، ہمیں پاکستان کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، منتخب ارکان اسمبلی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے،ہم اداروں کا احترام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پارلیمان آئین کی بالادستی کا ضامن ہے،سیاستدانوں کو آپس میں مذاکرات کرنے کا کہا جارہا ہے، اسپیکر بھی سپریم کورٹ سے عدالت کی کارروائیاں مانگے، پہلے اپنے گھر کی پنچائت لگائیں اس کے بعد ہمیں ہدایت کریں، محفلیں لگانا یا ہدایات دینا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے، وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کا رواج ختم کرنا ہوگا، 2وزرائے اعظم کو نمائندگی کے حق سے محروم کیا گیا، ایک وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی ،نواز شریف کو تاحیات نا اہل کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اپنے تنازعات بھول کر پارلیمنٹ کے وقار کیلئے اکٹھا ہونا ہوگا، پارلیمنٹ کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں اس کا جواب کون دے گا؟ جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کا بھی اختیار دیا گیا، ایک شخص نے اقتدار کی ہوس کے لیے آئین توڑا،ایک شخص 10سال تک مسلط رہا، ہم نے بہت حساب دیے ہمیں بھی حساب دیا جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ادارہ کہہ رہا ہے فلاں تاریخ کو الیکشن کرالو، جو آئین کہے گا صرف وہ ہوگا ، آئین سے ماورا کچھ نہیں ہوگا، سپریم کورٹ اپنا ماضی صاف کرنے کے لیے کیا کررہی ہے، میرے والد اور مجھے 72سال ہوگئے ایک پلاٹ نہیں ملا، ججز کی آمد کیلئے ٹریفک بند ہوجاتی ہے، وزرا کیلئے نہیں، ایک لاکھ 68ہزار ہماری تنخواہ ہے اور ان سے پوچھا جائے ان کی کتنی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں کی سہولت کاری کون کررہا ہے،ہم نے بھی آمروں کی حمایت کی ہے لیکن اس کی قیمت اد اکی، انہوں نے آمروں کی حمایت کی لیکن قیمت ادا نہیں کی، سابق وزیر اعظم دوبارہ اقتدار کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان لوگوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے زیادتی کی، ہمیں لیکچر دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آپ نے خود عدلیہ کی عزت کی یا نہیں؟ ہم 75سال بعد بھی کیوں چپ ہیں؟
یہ پڑھیں : عدالتی اصلاحاتی بل : سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے 8 مئی تک جواب طلب کرلیا
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









