ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپوں میں کمانڈرز کی ہلاکتیں معمول بن گئیں، مزید 9 دہشت گرد مارے گئے

اسلام آباد : افغانستان میں جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے درمیان فسادات کے مختلف واقعات میں 9 دہشت گرد بشمول اہم کمانڈرز مارے گئے۔
افغانستان کے علاقے خوست، کنڑ اور دیگر علاقوں مارے جانے والے 9 دہشت گردوں میں ساجد، عمر، ملنگ، کمانڈر ذاکر، طارق عرف ولی، ہاشم عرف ساجد، عثمانی عرف مسلم، رحمان عرف گل بابا اور یوسف شامل ہیں۔
ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپوں کے کمانڈرز اور غریب دہشتگرد طبقوں میں اختلافات پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں، جو مرکزی قیادت پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ نچلے درجے کے دہشتگرد مالی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کمانڈر شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ نے افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی
ٹی ٹی پی کی قیادت اپنے خود غرضانہ رویے کی بدولت غریب لوگوں کو اپنے ذاتی فوائد کیلئے سیکورٹی فورسز کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ اندرونی خلفشار اور بیرونی اختلافات کی وجہ سے انہیں آج بھاری قیمت چُکانا پڑ رہی ہے۔
زمین پر لڑنے والے غریبوں کو مُہرہ بنا کر نام نہاد جہاد کے نام پر قربان کیا جا رہا ہے۔ دہشتگرد عناصر کے لئے افغانستان کی زمین تنگ ہونا شروع ہو گئی ہے۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












