اتوار، 15-فروری،2026
ہفتہ 1447/08/26هـ (14-02-2026م)

پنجاب الیکشن کیس : سپریم کورٹ نے سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی

15 مئی, 2023 15:13

اسلام آباد : عدالت نے سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی انتخابات کیس میں الیکشن کمیشن کی داٸر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب بینچ میں شامل ہیں۔

سیکریٹری سپریم کورٹ بار مقتدر شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سپریم کورٹ بار اور وکلاء عدالت کے ساتھ ہیں۔ عدلیہ کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس یدئے کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا وسائل دیں انتخابات کروادینگے۔ اب الیکشن کمیشن نے پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے یہ موقف اپنایا ہی نہیں تھا۔ جو نکات پہلے نہیں اٹھائے کیا وہ اب اٹھائے جاسکتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مناسب ہوگا یہ نکات کسی اور کو اٹھانے دیں۔ عدالتی دائرہ اختیار کا نقطہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں اٹھایا تھا۔ وفاقی حکومت یہ نقطہ اٹھا سکتی تھی، لیکن انہوں نے نظر ثانی دائر نہیں کی۔ الیکشن کمیشن کی درخواست میں اچھے نکات ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‏آج دیکھ لیں، حکومت بے بس ہے، لوگ گیٹ پھلانگ رہے ہیںْ ‏چیف جسٹس نے پنجاب، کے پی کے ایڈوکیٹ جنرلز کو روسٹرم پر بلالیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ  آپ کو دلائل کے لئے کتنا وقت چاہیئے، جس پر وکیل نے بتایا کہ مجھے دلائل کے لئے تین سےچار گھنٹے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی وزراء کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج نہ کرنے کی اپیل

تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ نظرثانی درخواست میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست قابل سماعت ہونے پر الیکشن کمیشن کا مؤقف سننا چاہتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کر کے سنیں گے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کریں گے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرایا جائے۔ عدالت نے جو حکم دیا ہے وہ حتمی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا کہ بعض نکات غور طلب ہیں ان پر فیصلہ کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل شرجیل سواتی نے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں ہوتا۔ آئینی مقدمات میں دائرہ اختیار محدود نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بھی مدنظر رکھیں گے کہ نظرثانی میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی گزر چکا ہے، آئین کا انتقال ہو چکا ہے۔ نگران حکومتیں اب غیر آئینی ہو چکی ہیں۔ عدالت اپنے فیصلے پر عمل کروائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلہ حتمی ہو جائے پھر عمل درآمد کروائیں گے۔ ادارے اس وقت شدید خطرے کے اندر ہیں۔ میرا مشورہ ہے پرامن ماحول کے لئے کردار ادا کریں۔ دیکھیں اس وقت سپریم کورٹ کے باہر کیا صورتحال ہے۔ باہر جو ہو رہا ہے، کون آئین پر عمل کرائے گا؟

عدالت کا کہنا تھا کہ آج دیکھ لیں، لوگ گیٹ پھلانگ رہے ہیں، وفاقی حکومت مدد فراہم کرہی ہے۔ آئین ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں۔ مشکل حالات میں اللہ پاک صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں۔ اس کے باوجود بھی ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ مذاکرات کیوں شروع نہیں ہو رہے؟ آپ کو چاہیئے مذاکرات کا عمل دوبارہ دیکھیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے مذاکرات کی بات کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس کل اہم کیس کی سماعت ہے۔ کیوں نہ کیس اگلے ہفتے تک ملتوی کریں۔ عدالت نے سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی۔

Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔