بدھ، 25-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

انڈس بیسن میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر، اعداد و شمار اور حقائق

01 اگست, 2025 19:10

انڈس بیسن میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر۔۔ اعداد و شمار اور حقائق

پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی موجودگی سے متعلق جاری قیاس آرائیاں حالیہ دنوں میں اُس وقت مزید زور پکڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وسیع زیرِ زمین تیل ذخائر سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ پاکستان اور امریکہ ایک ایسے مشترکہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد ان بڑے  ذخائر کو ترقی دینا ہے۔

اس اعلان کو صرف سیاسی یا جغرافیائی تناظر میں دیکھنا درست نہ ہوگا۔ زمینی حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ پاکستان، بالخصوص انڈس بیسن کے علاقے جن میں سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کچھ حصے شامل ہیں تیل و گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ دسمبر 2024 تک ملک میں تیل کے ذخائر 238 ملین بیرل ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، پاکستان پٹرولیم انفارمیشن سروسز اور وزارتِ توانائی کے مطابق ان ذخائر میں سالانہ 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سندھ اس وقت تیل و گیس کے ذخائر کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا پیداواری صوبہ ہے جہاں 351 تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں۔ یہاں 247 سے زائد کنوؤں پر کھدائی ہو چکی ہے یا جاری ہے، جو اسے پاکستان کا "ٹیکساس” یا "عربستان” بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

یو ایس ایڈ کی ایک تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ صرف سندھ طاس میں 14 ارب بیرل خام تیل تکنیکی طور پر قابلِ دریافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خام تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں اضافے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

 انڈس بیسن میں زیرِ زمین ایسے جیولوجیکل ڈھانچے اور ہائیڈروکاربن امکانات موجود ہیں جنہیں عالمی ماہرین امید افزا قرار دیتے ہیں۔ سندھ کے بلاکس میں گمبٹ ٹو، مرادی، ملیر ٹو، ساون جنوبی، مٹیاری اور زمزمہ ویسٹ شامل ہیں۔ یہ تمام بلاک زیریں سندھ طاس میں واقع ہیں جن کا تخمینہ 16 کروڑ بیرل تیل اور 24.6  ٹریلین کیوبک فٹ گیس ہے۔ رچنا ٹو بلاک پنجاب (وسطی سندھ طاس) میں واقع ہے۔ انڈس بیسن 20 کروڑ بیرل تیل اور 196 ٹی سی ایف گیس کے وسائل کا حامل ہے۔

پاک امریکا پیش رفت کے تناظر میں بلوچستان میں موجود ذخائر حوالے سے اچانک قیاس آرائیاں شروع کی گئی ہیں کہ شاید بلوچستان کے وسائل و ذخائر غیر ملکیوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور بلوچستان شاید تیل و گیس کے حوالے سے سب سے بڑا پیدواری صوبہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  یہ تمام مفروضے سیاسی  پوائنٹ اسکورننگ اور بلوچ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔

یہ تاثر کہ پاکستان کو اپنے تیل و گیس کے ذخائر کا پہلے علم نہیں تھا، درست نہیں۔ ماضی میں بھی امریکی کمپنیاں جیسے آکسیڈینٹل پیٹرولیم اور یونین ٹیکساس پاکستان کے اپ اسٹریم سیکٹر میں سرگرم رہی ہیں اور اس شعبے کی ابتدائی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہیں۔ یہ نئی پیش رفت ان پرانی شراکت داریوں کا تسلسل بھی ہے، جسے اب ایک تجارتی اور تکنیکی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس معاہدے سے جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، اور ریفائننگ کے شعبے میں صحت مند مقابلے کو فروغ ملے گا۔

اس وقت پاکستان میں روزانہ تقریباً 73 ہزار بیرل تیل نکالا جا رہا ہے، جو ملک کی مجموعی ضروریات کا ایک چھوٹا حصہ ہے، جبکہ یومیہ کھپت 556,000 بیرل ہے۔ پاکستان تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، اور سالانہ 9 ملین ٹن کروڈ آئل بیرون ملک سے لاتا ہے۔ اس تناظر میں انڈس بیسن میں تیل کی پیداوار میں اضافہ اور امریکی معاونت سے اس شعبے میں خود کفالت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

 یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں اگر 10 کنویں کھودے جائیں تو کامیابی کا تناسب 3.7 ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہت بہتر ہے۔ سندھ طاس اور مکران طاس میں واقع بیس آف شور پیٹرولیم بلاکس کی مارکیٹنگ کے لیے عالمی کمپنیوں سے   رابطے کیے گئے ۔ پاکستان کے پاس ایک بڑا سمندری طاس ہے جس میں ہائیڈرو کاربن کی دریافت کی کافی صلاحیت موجود ہے، مگر یہ اب تک بڑی حد تک غیر دریافت شدہ ہے۔

 زمینی حقائق اور اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے انڈس ویلی کے علاقوں میں تیل و گیس کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، اور اگر مناسب سرمایہ کاری، پالیسی استحکام، اور ٹیکنالوجی میسر آ جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ خطے میں توانائی برآمد کرنے والا ملک بھی بن سکتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔