موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے والی 14 سالہ فاطمہ کون ہے؟

Who is 14-year-old Fatima who rides a motorcycle in the "well of death"?
پنجاب کے میلوں میں "موت کے کنویں” میں موٹر سائیکل دوڑا کر شائقین کو حیران کرنے والی کم عمر لیکن دلیر لڑکی فاطمہ نور نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
فاطمہ چاہتی ہے کہ مریم نواز ایک بار اُسے اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود دیکھیں۔ وہ کہتی ہے کہ مریم نواز خواتین اور لڑکیوں کے لیے جس جذبے سے کام کر رہی ہیں، وہ ان کی بہت بڑی مداح ہیں۔
فاطمہ نور نے کم عمری میں ہی اپنے والد منیر احمد کے ساتھ موت کے کنویں میں بائیک چلانا سیکھا۔ ابتدا میں وہ والد کے ساتھ بیٹھتی تھی، لیکن گزشتہ چار سالوں سے وہ خود تنہا کنویں کے اندر موٹر سائیکل دوڑاتی ہے۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کا کوئی بھائی نہیں، اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کا سہارا بنے گی۔
ابتدا میں والد نے بیٹی کو اس پیشے سے دور رکھنے کی کوشش کی، یہ کہتے ہوئے کہ لڑکیوں کا یہ کام نہیں، لوگ باتیں بنائیں گے۔ تاہم، فاطمہ کے جذبے اور مسلسل اصرار کے آگے والد کو جھکنا پڑا۔ فاطمہ کا ماننا ہے کہ جب کسی کام کا شوق اور جنون ہو تو خوف خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ وہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے احتیاط برتتی ہیں، تاہم ہیلمٹ جیسی حفاظتی اشیاء موت کے کنویں میں استعمال نہیں کی جا سکتیں۔ لوگ اکثر مظاہرے کے دوران انہیں پیسے دینا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود رقم نہیں لیتیں بلکہ ان کے والد جو دوسری بائیک پر موجود ہوتے ہیں، وہی یہ رقم وصول کرتے ہیں۔
فاطمہ کا مطالبہ ہے کہ ایسے ہنر مند نوجوانوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اور حکومت کو چاہیے کہ ان کے لیے تربیت اور تحفظ کا باقاعدہ بندوبست کرے۔ وہ فی الحال کم عمر ہیں اس لیے ڈرائیونگ لائسنس نہیں رکھتیں، لیکن مستقبل میں لائسنس ضرور حاصل کریں گی۔
فاطمہ کے والد منیر احمد نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں اور فاطمہ بڑی ہے۔ اگرچہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں، مگر جس مہارت سے وہ بائیک چلاتی ہے، وہ کسی ڈگری سے کم نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو نہ صرف تعلیم بلکہ کوئی ہنر بھی ضرور سکھائیں تاکہ وہ خودمختار زندگی گزار سکیں۔
منیر احمد نے کہا کہ وہ سال بھر پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہات کے میلوں میں اپنی ٹیم کے ساتھ بائیک اسٹنٹس دکھاتے ہیں، جبکہ سردیوں میں اپنے آبائی علاقے واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے بقول وہ عام موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، صرف مڈگارڈ اتار دیتے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں بائیک کے ٹائر فوری بدلے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ موت کے کنویں میں حادثات کی بڑی وجہ لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سڑکوں پر ون ویلنگ کرنے والے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔
فاطمہ نور کی کہانی ایک ایسی بیٹی کی داستان ہے جو روایت، غربت اور خطرات کے باوجود نہ صرف باپ کے لیے بیٹا بنی بلکہ پورے معاشرے کے لیے یہ پیغام لے کر سامنے آئی کہ حوصلہ، ہنر اور عزم کسی جنس یا عمر کا محتاج نہیں ہوتا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












