منگل، 24-مارچ،2026
منگل 1447/10/05هـ (24-03-2026م)

زیادتی کا شکار کشمیری خواتین آج بھی انصاف کی منتظر، بھارتی فوج کا ظلم بے نقاب

04 اگست, 2025 23:42

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی درندگی کا نشانہ بننے والی کشمیری خواتین آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔

دہائیوں سے جاری بھارتی ظلم و ستم میں خواتین کو بطور "جنگی ہتھیار” استعمال کیا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کی خاموشی اس انسانیت سوز المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

بھارت نے تحریکِ آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے منظم طور پر اجتماعی زیادتی کو ایک پالیسی کے طور پر اپنایا۔ 1989ء سے 2020ء کے دوران کم از کم 11,224 کشمیری خواتین بھارتی فورسز کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار ہو چکی ہیں۔ ان میں وہ معصوم خواتین بھی شامل ہیں جن کی عمریں 11 سے 60 سال کے درمیان تھیں، جیسا کہ ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا۔

چند چونکا دینے والے اعداد و شمار:

  • 1992ء میں صرف ایک سال کے دوران 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔

  • ایشیاء واچ کے مطابق ایک ہفتے میں 44 ماورائے عدالت قتل اور 15 جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

  • ہیومن رائٹس واچ نے 1994ء میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارتی افواج اجتماعی زیادتی کو خوف پھیلانے اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

بھارتی افواج کو کھلی چھوٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارتی حکومت کی پشت پناہی اور سزا و جزا کے نظام کی عدم موجودگی نے بھارتی فوج کو بلا خوف ان جرائم میں ملوث ہونے کا موقع دیا۔
76 سال گزر جانے کے باوجود، زیادتی کے کسی ایک بھی مجرم کو آج تک سزا نہیں دی گئی۔

ریپ کو بطور جنگی ہتھیار:

بیان بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاس ہے کہ بھارتی فوج ریپ کو تحریکِ آزادی کو دبانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔