بینکوں میں پیسے رکھنے والے ہوجائیں خبردار!! اہم فیصلہ ہوگیا

Important news for ATM users: Withdrawal fee significantly increased
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا تمام بینکنگ ڈیٹا ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو فراہم کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور منی لانڈنگ کی تحقیقات میں بہتری لانا ہے۔ اگر کسی ٹیکس دہندہ کی ظاہر کردہ آمدن اور بینک اکاؤنٹس میں فرق پایا گیا، تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے کے تحت، فنانس بل 2025 کے مطابق ایف بی آر کو بینکوں سے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ملے گا۔ ایف بی آر کمرشل بینکوں کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ کرے گا تاکہ آمدنی اور اثاثوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بینکوں کو ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس دہندگان کی معلومات شیئر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایف بی آر اپنی جانب سے گوشوارے، مالی تفصیلات، اور اثاثہ جات کی معلومات بینکوں کو فراہم کرے گا۔ بینکوں کو ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ایک سنگل ڈیپازٹری میں شیئر کرنا ہوگا۔
ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔ اگر کسی ٹیکس دہندہ کی ظاہر کردہ آمدن اور بینک اکاؤنٹس میں کوئی تضاد پایا گیا، تو صرف اسی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے کا مقصد منی لانڈنگ اور بینیفیشل اونرشپ کا سراغ لگانا ہے۔ اس عمل میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، ایس ای سی پی، کمرشل بینک اور منی ایکسچینج کمپنیاں بھی شریک ہوں گی اور ڈیٹا شیئر کریں گی۔
حکومت نے اس منصوبے کی تیاری کے لیے کمیٹی بھی قائم کی ہے جو اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر کام کرے گی۔ اس کے ذریعے، ٹیکس کی ادائیگی میں شفافیت لائی جائے گی اور منی لانڈنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








