پیر، 23-مارچ،2026
پیر 1447/10/04هـ (23-03-2026م)

قتل کی واردات جس میں ’کھرا‘ مقتولہ کے شوہر کی حویلی پر جا رکا

17 اگست, 2025 17:40

دوپہر کا وقت ہے اور پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے ایک گاؤں میں کھوجی (سراغ رساں جو قدموں کے نشانات کی مدد سے مجرم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں) اللہ دتہ انتہائی غور سے زمین پر پیروں کے نشانات کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ گاؤں کے چند افراد کچھ فاصلے پر اُن کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔

اللہ دتہ ہر کچھ دیر بعد پیچھے چلتے مجمعے سے خاموش رہنے اور مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے جن کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ کُھرا آخر کہاں تک جاتا ہے۔

کھوجی اللہ دتہ کی خدمات فیصل آباد کے ایک گاؤں کے زمیندار خوشی محمد (فرضی نام) نے حاصل کی تھیں جن کی 50 سالہ اہلیہ کو 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب نامعلوم ملزمان نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع مقامی پولیس کو بھی دی گئی تھی مگر خوشی محمد کے مطابق انھوں نے یہ بہتر جانا کہ وہ تفتیش کے لیے روایتی طریقہ بھی اختیار کریں اور قدموں کے نشانات کی مدد سے مجرم کا سراغ پانے کی کوشش کریں۔

کھوجی اللہ دتہ نے اپنے میزبان کو پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ کُھرا ڈھونڈنے کا کام طویل اور پیچیدہ ہو گا، اس لیے کوئی بھی شخص ان کے راستے میں نہ آئے کیونکہ اگر پیروں کے نشانات گڈ مڈ ہو گئے تو کھرے تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ خوشی محمد نے اپنی حویلی میں تعزیت کی غرض سے آنے والوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ آنے جانے کے لیے حویلی کے مرکزی راستے کے بجائے عقبی دروازہ استعمال کریں۔

اللہ دتہ نے اپنے کام کا آغاز حویلی میں عین اس مقام سے کیا جہاں قتل ہوا تھا۔ ابتدائی کوششوں کے بعد ہی انھیں حویلی کے اندر کچی زمین سے کچھ پیروں کے نشانات مل گئے تھے جن کے بارے میں اللہ دتہ کو شبہ تھا کہ یہ ممکنہ طور پر قاتلوں کے ہو سکتے ہیں۔

اور اب اللہ دتہ قدموں کے انھی نشانات کی پیروی کر رہے تھے اور اس سارے عمل میں ان کا بیٹا غلام رسول اُن کی معاونت کر رہا تھا۔

اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق خوشی محمد نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے دو شادیاں کر رکھی ہیں اور دونوں بیویاں الگ الگ حویلیوں میں رہتی ہیں جو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر واقع ہیں۔

خوشی محمد کے مطابق انھوں نے 24 سال قبل مقتولہ سے دوسری شادی کی تھی جس سے اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پہلی اہلیہ سے ان کے دو بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب اپنے ڈیرے کے قریب ہی بیٹھے تھے جب انھوں نے ایک فائر کی آواز سُنی تو حویلی کی جانب دوڑے جہاں ان کی اہلیہ خون میں لت پت پڑی تھیں۔ اُن کے سر میں گولی ماری گئی تھی۔

وہ حویلی جہاں خوشی محمد کی دوسری اہلیہ کا قتل کیا گیا تھا وہ گاؤں سے کچھ باہر واقع ہے۔

کھوجی اللہ دتہ قدموں کا تعاقب کر رہے تھے جب اُن کا رُخ اچانک اُسی گاؤں کی جانب مڑ گیا جہاں خوشی محمد اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اپنے گاؤں کی طرف کھرا جاتے دیکھ کر پیچھے چلنے والے افراد میں کچھ بے چینی پھیل گئی اور کھسر پھسر شروع ہو گئی۔

خوشی محمد نے اللہ دتہ کی خدمات 25 ہزار روپوں کے عوض حاصل کی تھیں۔

شام لگ بھگ چھ بجے قدموں کے نشانات اُس حویلی کی طرف جانے لگے جو خوشی محمد کا آبائی گھر تھا۔ یہ بات حیران کر دینے والی تھی جس پر، خوشی محمد کے بقول، وہ خود بھی پریشان تھے۔

پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا اور کھوجی اللہ دتہ خوشی محمد کی حویلی کے باہر جا کر رُک گئے۔ پھر وہ احتیاط سے کچھ قدم آگے چلے لیکن پھر واپس آ گئے کیونکہ کھرا اُسی مقام پر رُک رہا تھا۔

اس موقع پر موجود ایک مقامی شخص کے مطابق اللہ دتہ نے زمیندار خوشی محمد کو بُلا کر اُن کے کان میں کچھ کہا، دونوں دس، پندرہ منٹ الگ ہو کر کچھ بات چیت کرتے رہے جس کے بعد اللہ دتہ کو اُن کا معاوضہ ادا کر دیا گیا اور انھیں روانہ کر دیا گیا۔

یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ خوشی محمد کی مقتولہ اہلیہ کی حویلی سے چلنے والا کُھرا ان کے ہی دوسرے گھر جا کر رُک گیا۔ اسی دوران مقامی پولیس بھی اپنی تفتیش شروع کر چکی تھی۔

اس کیس سے منسلک تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر عبدالستار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ ’اس کیس میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے کھوجی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پنجاب کے دیہی علاقوں میں سراغ رسانی کےلیے کھوجی آج بھی کامیاب سمجھا جاتے ہیں اور اگرچہ اُن کی شہادت عدالت میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن کیس کی الجھی گھتیاں سلجھانے میں یہ ضرور مددگار ہوتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔