ملبے سے نکالی لاشوں میں بچوں کے ہاتھ میں پراٹھے تھے، صوابی میں سیلاب کی کہانی

Children's hands were among the bodies pulled out of the rubble, the story of the flood in Swabi
15 اگست کو خیبر پختونخوا میں ہونے والی طوفانی بارشیں، بادل پھٹنے کے واقعات اور سیلابی ریلے بونیر اور صوابی میں کئی دل دہلا دینے والے واقعات کا سبب بن گئے۔
ان حادثات میں سیکڑوں افراد جان سے گئے تو درجنوں مکانات تباہ اور مال مویشی سیلاب کی نذر ہوگئے، کئی مقامات پر شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، ایسے ہی کچھ دل کو چیر دینے والے واقعات سے بونیر اور صوابی کے مکینوں نے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوابی کے علاقے دالوڑی گدون میں سیلاب سے متاثرہ درجنوں گھروں میں پہاڑ پر بنا ایک ایسا گھر بھی شامل تھا جس میں رہنے والی ماں اور اس کے 4 بچے ناشتہ کرتے ہوئے گھر کے ملبے تلے دب گئے تھے۔
اس حوالے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ایک رضاکار نے بتایا کہ ملبے سے اس گھر کے 4 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، ان لاشوں میں شامل بچوں نے ہاتھوں میں پراٹھے پکڑے ہوئے تھے، ان بچوں کے والد بیرون ملک روزگار کیلئے گئے ہوئے تھے واپسی پر بچوں اور اہلیہ کی لاشیں دیکھ کرسکتے میں آگئے۔
دوسری جانب رپورٹ میں ضلع بونیر کے علاقے گوکند کے جنید خان کی شادی کی کہانی بھی بیان کی گئی ہے، جنید خان کے مطابق آج 22 اگست کے روز ان کا ولیمہ ہونا تھا جس میں شرکت کیلئے ان کی خالہ زاد بہن بھی ان کے گھر آئی ہوئی تھی۔
جنید خان نے بتایا کہ 15 اگست کی صبح ضلع بونیر میں آئے سیلاب نے ان گھر میں شادی کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا، یہ سیلاب ان کے گھر کے 8 افراد کو بہا لے گیا، ان افراد میں ان کی والدہ،2 بہنیں،چھوٹا بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اور ایک خالہ زاد بہن بھی شامل ہیں۔
جنید خان کے مطابق خوش قسمتی سے وہ اس واقعے میں محفوظ رہے لیکن اس واقعے کا خوف آج بھی انھیں رات کو سونے نہیں دیتا۔
یاد رہے کہ کے پی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس دوران سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں مقامی افراد اپنے پیاروں کو کھونےکے بعد نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہونے لگے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









