ایک اور قدرتی آفت کا خطرہ؛ بارشیں، سیلاب اور بادل پھٹنے کا امکان

Another Natural Disaster Threat: Possibility of Heavy Rains, Floods, and Cloudbursts
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 23 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی مون سون کی آٹھویں لہر کے دوران شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 22 اگست کی شب مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ بالائی پنجاب میں داخل ہوگا، جس کے باعث پانچ روز تک وقفے وقفے سے تیز اور موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، حافظ آباد سمیت متعدد اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں بادل پھٹنے اور غیر معمولی بارشوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے علاوہ ان کے معاون ندی نالوں میں پانی کی روانی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے خاص طور پر دریائے ستلج کے کنارے آباد شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں تاکہ کسی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔
دریائے سندھ پر تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ کلاباغ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا پر درمیانے درجے اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ انسانی جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









