بدھ، 11-فروری،2026
منگل 1447/08/22هـ (10-02-2026م)

بلوچستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت 100 سے زائد افراد نے ہتھیار ڈال دیے

06 دسمبر, 2025 11:23

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے 100 سے زائد ساتھیوں نے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔

کمانڈر اور ان کے ساتھیوں نے اپنا اسلحہ صوبائی وزیر داخلہ میر آفتاب احمد بگٹی کے حوالے کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ہتھیار ڈالنے والے تمام افراد کو قومی دھارے میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے اور امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہتھیار پھینک کر پاکستان کا پرچم تھامنے والوں نے صوبے میں امن کے سفر کا نیا آغاز کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام واضح پیغام ہے کہ ریاست نے بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں، لیکن جو لوگ آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے واپس آنا چاہیں، انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ جو بھی ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھے گا، اس کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے ریاستی پالیسی واضح ہے، بات چیت اور معافی اُن کے لیے جو ہتھیار چھوڑ دیں، اور سخت کارروائی اُن کے خلاف جو تشدد پر قائم رہیں۔

میر افتاب بگٹی کے سامنے سرنڈر ہونے والے فراریوں سے پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔

ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ نہایت مثبت پیش رفت ہے۔ یہ عمل نہ صرف اُن کے قومی اداروں پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اُن کے حبُ الوطنی کے جذبے اور ڈیرہ بگٹی میں امن و ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اُن کا یہ قدم قابلِ تعریف ہے اور داد و تحسین کا مستحق ہے۔

اسی کے ساتھ، جو افراد پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں، اُن سے بھی پُرزور اور خلوصِ دل کے ساتھ درخواست ہے کہ وہ واپس آئیں اور استحکام، ترقی اور ہم آہنگی کی راہ میں شامل ہوں۔ اُن کے بچوں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل امن سے وابستہ ہے، نہ کہ مزاحمت سے۔ آخر کب تک ڈیرہ بگٹی میں بے چینی، خوف اور بھتہ خوری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امن کو گلے لگائیں، معمولاتِ زندگی بحال کریں، اور سب مل کر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے کردار ادا کریں۔

یہ 100 سے زاہد گمراہ افراد نے ریاست کی آغوش میں واپس آکر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، صرف ایک خوش آئند پیش رفت نہیں، بلکہ ڈیرہ بگٹی کی ہر گھرانے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ان کا یہ قدم ہمت، سمجھ داری اور اپنے وطن سے گہری محبت کی علامت ہے۔ اس دھرتی کے ان بیٹوں نے سمجھ لیا ہے کہ اصل عزت جنگ میں نہیں، امن میں ہے، اور ان کا یہ فیصلہ دل سے تعریف کے قابل ہے۔

جو لوگ اب بھی پہاڑوں میں موجود ہیں، ان سے دلی، خلوص بھری اپیل ہے کہ واپس آجاؤ، اپنے گھروں کو لوٹ آؤ۔ تمہارے خاندان تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ تمہارے بچوں کا حق ہے کہ وہ خوف سے پاک زندگی گزاریں۔ آخر کب تک بے چینی، بھتہ خوری اور بے امنی کا یہ اندھیرا ڈیرہ بگٹی پر چھاتا رہے گا؟ ہماری سرزمین بہت تکلیفیں جھیل چکی۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس درد کا خاتمہ کیا جائے، زندگی کو تباہی پر، تعمیر کو بربادی پر، اور اتحاد کو تقسیم پر ترجیح دی جائے۔

ڈیرہ بگٹی تبھی ترقی کرے گا جب اس کے تمام لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آئیں، ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پُرامن کل دیں، ایک ایسا کل جس پر ہم سب فخر کر سکیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔