بدھ، 14-جنوری،2026
بدھ 1447/07/25هـ (14-01-2026م)

پاکستان میں موبائل سروس سست کیوں؟ اہم وجہ سامنے آگئی

16 دسمبر, 2025 15:05

پاکستان میں موبائل فون صارفین کی بڑی تعداد انٹرنیٹ اور کال سروس کے سست ہونے کی شکایت کر رہی ہے۔ اب اس مسئلے کی بنیادی وجہ سامنے آ گئی ہے، جس نے صارفین کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود موبائل سروس کا معیار بہتر نہیں ہو سکا۔ اکثر صارفین کو کال ڈراپ، سست انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر امین الحق نے کی۔ اجلاس میں چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے موبائل سروس کے مسائل پر بریفنگ دی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ملک میں صرف 15 فیصد موبائل ٹاورز فائبرائزڈ ہیں۔ فائبرائزیشن نہ ہونے کی وجہ سے موبائل سروس کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فائبر نیٹ ورک کے بغیر 5 جی متعارف کروایا گیا تو سروس مزید سست ہو سکتی ہے۔

اس بریفنگ کے بعد قائمہ کمیٹی کے ارکان نے فائبرائزیشن پلان اور کلسٹرز کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ موبائل کوالٹی آف سروس کے حوالے سے شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن حکام ہر بار سب کچھ درست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

کمیٹی اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد موبائل سروس مزید خراب ہو گئی ہے۔ ارکان کے مطابق موبائل ٹاورز کے سولر سسٹم اور بیٹری مسائل بھی سروس کی خرابی کی بڑی وجوہات ہیں۔

رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پی ٹی اے کے کوالٹی آف سروس سروے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ سروے کہاں اور کیسے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ سروے ارکان کے سامنے کرائے جائیں۔

چیئرمین کمیٹی امین الحق نے کہا کہ ارکان نے ڈیٹا اور کال سروس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کاغذی رپورٹس میں سب کچھ بہتر نظر آتا ہے، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی سے موبائل سروس بہتر ہو سکتی ہے اور وزارت آئی ٹی کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔