طلاق کے بعد نادرا ریکارڈ سے سابقہ شریک حیات کا نام ہٹانے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

Big News: NADRA Introduces Major New Facility for ID Card Services
طلاق کے بعد نادرا ریکارڈ میں ازدواجی حیثیت تبدیل کروانا اور سابقہ شریکِ حیات کا نام شناختی ریکارڈ سے ہٹانا اب ایک آسان عمل ہوگیا ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اس حوالے سے شہریوں کے لیے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
نادرا کے مطابق طلاق کے بعد مرد اور عورت دونوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا ازدواجی اسٹیٹس ’’شادی شدہ‘‘ سے تبدیل کر کے ’’طلاق یافتہ‘‘ کروائیں۔ اس کے لیے چند قانونی مراحل مکمل کرنا ضروری ہیں۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے شہری کو فیملی کورٹ یا مصالحتی کمیٹی سے باضابطہ طلاق نامہ یا خلع کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اس یونین کونسل سے رجوع کرنا لازم ہے جہاں نکاح رجسٹرڈ ہوا تھا۔
یونین کونسل میں طلاق کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی جائے گی۔ درخواست کے ساتھ فریقین کے نام، طلاق کی تاریخ، قومی شناختی کارڈ کی نقول اور گواہان کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد یونین کونسل طلاق کا سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔
نادرا نے وضاحت کی ہے کہ صرف یونین کونسل سے طلاق کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا کافی نہیں۔ مرد اور عورت دونوں کو علیحدہ علیحدہ نادرا دفتر جا کر کمپیوٹرائزڈ طلاق نامہ جمع کروانا ہوگا تاکہ ان کا ازدواجی اسٹیٹس نادرا ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔
نادرا کے مطابق ازدواجی حیثیت میں تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب تمام سرکاری دستاویزات فراہم کی جائیں اور ان کی تصدیق مکمل ہو جائے۔ اس اقدام کا مقصد قومی ریکارڈ کی درستگی اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانا ہے۔
یہ وضاحت نادرا نے سوشل میڈیا پر ایک شہری کی شکایت کے جواب میں دی، جس میں بتایا گیا تھا کہ طلاق کے باوجود نادرا ریکارڈ میں سابقہ شریکِ حیات بدستور بیوی کے طور پر درج ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










