قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا: سعودی کابینہ کا دوٹوک اعلان

قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا: سعودی کابینہ کا دوٹوک اعلان
سعودی عرب کی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا خدشے پر سخت اور فوری ردعمل دے گی۔
یہ اعلان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ملکی اور علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے اپنے پختہ موقف پر قائم ہے اور یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی اور ان کی حکومت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
اجلاس میں ان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا جن پر سعودی عرب نے خصوصی توجہ دی تھی، تاہم اس کے جواب میں ایسے اقدامات دیکھنے میں آئے جو اشتعال انگیزی کا باعث بنے اور یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے اصولوں کے خلاف تھے۔
کابینہ کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف یمن میں امن و استحکام کے مقاصد کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔
سعودی کابینہ نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتحاد نے یمنی قیادت کی درخواست پر حضرموت اور المہرہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے اور کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں دانش مندی، حسنِ ہمسائیگی اور بھائی چارے کے اصولوں کو ترجیح دی جائے گی اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اسی تناظر میں سعودی کابینہ نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کی حکومت کی درخواست پر 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج یمن سے واپس بلائے۔
کابینہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی عبوری کونسل (STC) یا یمن کے کسی بھی دوسرے فریق کو ہر قسم کی عسکری اور مالی معاونت فوری طور پر بند کی جائے۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تحفظ کا خواہاں ہے اور خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا چاہتا ہے۔
اجلاس میں شاہ سلمان نے کابینہ کو روسی صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب سے بھی آگاہ کیا، جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
بعد ازاں کابینہ نے سعودی عرب اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے، دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا۔
اسی حوالے سے سعودی-عمانی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے نتائج کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا، جہاں معیشت، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے بعد سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کو بتایا کہ کابینہ نے علاقائی امور کا بھی جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی حکام اور نام نہاد صومالی لینڈ کے درمیان تعلقات کے اعلان کو مسترد کر دیا۔
کابینہ کے مطابق ایسے یک طرفہ علیحدگی پسند اقدامات بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کابینہ نے عالمی سطح پر سعودی عرب کی انسانی اور امدادی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا، جن کے تحت دنیا بھر میں صحت، تعلیم، رہائش اور خوراک کی فراہمی جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات اسلامی تعلیمات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











