حکومتِ آزاد کشمیر کی عوام دوست حکمرانی، عملی فیصلوں سے اعتماد بحال

حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے حالیہ مہینوں میں عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنا دیا ہے۔ حکومتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسی محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی نتائج دینے پر مرکوز ہے۔ متاثرہ طبقات کی فوری داد رسی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شفاف اصلاحات نے عوام کا اعتماد بحال کیا ہے۔
صحت، تعلیم، روزگار، بجلی، پانی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں ایک کے بعد ایک ٹھوس فیصلے کیے گئے ہیں۔ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ عوامی ضرورت کو مرکز بنا کر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی معاونت دی گئی۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ مہنگائی اور ٹیکس کے بوجھ میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
منگلا ڈیم ریزنگ منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کے مسائل پر کابینہ کمیٹی نے رپورٹ پیش کر دی ہے۔ بجلی کے واجبات معاف کیے گئے ہیں اور مستقبل میں بلوں کے اجراء پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے تیار کر کے وفاق کو ارسال کیے گئے ہیں۔
صحت کے شعبے میں بھی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تمام اضلاع میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین سہولت کے لیے 5.5 ارب روپے کا پی سی ون منظور کیا گیا ہے۔ ہیلتھ کارڈ کے نفاذ کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، جس کی سفارشات کابینہ میں پیش کی جا چکی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے لیے قانونی عمل جاری ہے۔ تعلیمی اداروں میں داخلے مکمل طور پر اوپن میرٹ پر کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ تنظیموں کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کیا جا رہا ہے۔
انتظامی اصلاحات کے تحت کابینہ کا حجم کم کر کے 20 وزراء تک محدود کر دیا گیا ہے۔ محکموں کا انضمام مکمل ہو چکا ہے۔ احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کے انضمام کے لیے قانون سازی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔
پرتشدد واقعات سے متعلق 192 ایف آئی آرز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ 177 مقدمات واپس لے لیے گئے جبکہ ہلاکتوں سے متعلق 15 مقدمات برقرار رکھے گئے ہیں۔ عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے ہائی کورٹ سے جج نامزدگی کا عمل جاری ہے۔
ٹرانسپورٹ پالیسی، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم، واٹر سپلائی اسکیمیں، پلوں کی تعمیر، کچرا کلیکشن نظام اور سیلولر انٹرنیٹ کی بہتری جیسے اقدامات بھی حکومتی کارکردگی کا حصہ ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں گرفتار تمام کشمیری مظاہرین کو رہا کر دیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست احتجاج اور وقتی دباؤ کے بجائے عوامی فلاح، سماجی استحکام اور نتیجہ خیز حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ عام آدمی کے مسائل اس کی اولین ذمہ داری ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











