بدھ، 14-جنوری،2026
بدھ 1447/07/25هـ (14-01-2026م)

انتخابات قریب، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ، سفارت کاری سے کھیلوں تک اثرات

12 جنوری, 2026 15:41

بھارت اور اس کے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات گزشتہ ایک سال سے شدید تناؤ کا شکار ہیں، جو اب سفارتی اور تجارتی تنازعات سے نکل کر کھیلوں تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب دونوں ممالک میں اہم انتخابات قریب ہیں اور داخلی سیاست خارجہ پالیسی پر حاوی نظر آ رہی ہے۔
یہ بحران 2024 میں بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک حکمران رہنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد شروع ہوا۔ عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئیں، جس پر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور مظاہرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ڈھاکہ کا مؤقف ہے کہ بھارت شیخ حسینہ کو واپس حوالے کرنے سے انکار کر کے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
بھارت نے اس کے جواب میں بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے خلاف مبینہ تشدد اور ڈھاکہ سے آنے والے سخت بیانات پر احتجاج کیا۔ گزشتہ ماہ چٹاگانگ میں بھارتی مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد نئی دہلی نے وہاں ویزا آپریشن معطل کر دیے، جس کے جواب میں بنگلہ دیش نے بھی نئی دہلی میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا سہولت روک دی۔
کھیل بھی سیاست کی زد میں
کشیدگی نے کھیلوں کو بھی متاثر کیا۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند گروہوں کے احتجاج کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک دیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے بنگلہ دیش نے اعلان کیا کہ اس کی ٹیم اگلے ماہ بھارت میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے سفر نہیں کرے گی اور بین الاقوامی کرکٹ بورڈ سے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
بھارت پر الزامات، بنگلہ دیش میں غصہ
بنگلہ دیش میں ایک نوجوان نسل بھارت کو شیخ حسینہ کے 15 سالہ سخت گیر دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سہولت کار سمجھتی ہے۔ حسینہ حکومت پر مخالفین کی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور مظاہروں کے دوران تقریباً 1,400 افراد کی ہلاکتوں کے الزامات ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق ایک غیر مقبول حکمران کی غیر مشروط حمایت نے بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات کو تقویت دی۔
انتخابی سیاست اور شناختی بحران
بنگلہ دیش میں فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو عملی طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔ کئی امیدوار بھارت مخالف جذبات کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رہے ہیں، جس میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی بھی شامل ہے۔ عبوری وزیر اعظم محمد یونس ایک طرف ان سیاسی قوتوں کو مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں اقتدار تک پہنچایا، جبکہ دوسری طرف بھارت کے ساتھ ورکنگ تعلقات برقرار رکھنا بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
بھارتی حکومت نے نہ صرف شیخ حسینہ کی حوالگی سے انکار کیا ہے بلکہ بھارت میں موجود عوامی لیگ کے رہنماؤں کو بنگلہ دیشی سیاست میں مداخلت سے روکنے کے مطالبات بھی مسترد کر دیے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں نے محمد یونس کو شدت پسندوں کا ہمدرد قرار دیا، جبکہ بنگلہ دیشی قیادت کا کہنا ہے کہ اقلیتوں پر حملے مجموعی بدامنی کا حصہ ہیں اور یہ صرف ہندوؤں تک محدود نہیں۔
بھارت کے اندرونی اثرات
بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملوں کا معاملہ بھارت کی ریاستوں مغربی بنگال اور آسام میں بھی انتخابی موضوع بن چکا ہے، جہاں آنے والے مہینوں میں انتخابات متوقع ہیں۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے بنگلہ دیشی قونصل خانے کی جانب مارچ کرتے ہوئے نئی دہلی سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیش کو “وہی سبق سکھائے جو اسرائیل نے غزہ میں سکھایا۔”
مستقبل کی سیاست اور علاقائی حکمتِ عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق شور شرابے کے باوجود دونوں ممالک پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ بھارت مبینہ طور پر عبوری حکومت کے بجائے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کی فروری کے انتخابات میں کامیابی متوقع ہے۔ تاہم جماعتِ اسلامی کا ابھار نئی دہلی کے لیے ایک اور پیچیدہ چیلنج بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو بنگلہ دیش کے بدلتے سیاسی اور سماجی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی پالیسی تشکیل دینا ہوگی، کیونکہ آنے والے برسوں میں وہاں اقتدار کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔