جمعرات، 15-جنوری،2026
جمعرات 1447/07/26هـ (15-01-2026م)

کشمیری مسلمان طلباء کی قابلیت ان کا جرم بنا دی گئی

15 جنوری, 2026 16:10

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ دائیں بازو کے ہندو انتہا پسند گروپس کی جانب سے مسلمان طلبہ کے داخلوں پر شدید احتجاج کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اس اقدام نے بھارت میں تعلیم کے شعبے میں مذہب اور سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کالج کے پہلے بیچ میں شامل 50 طلبہ میں اکثریت مسلمان طلبہ کی تھی، جو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم ہندو انتہا پسند گروپس اور بی جے پی سے وابستہ رہنماؤں نے مسلمان طلبہ کے داخلے کو “نامناسب” قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ یہ ادارہ ہندو عطیات سے چلتا ہے، اس لیے یہاں مسلمانوں کو داخلہ نہیں ملنا چاہیے۔ اسی دباؤ کے بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کی منظوری یہ کہہ کر واپس لے لی کہ ادارے میں انفراسٹرکچر کی کمی ہے، حالانکہ ناقدین کے مطابق اصل وجہ مذہبی بنیادوں پر کیا گیا دباؤ تھا۔

کالج کی بندش کے نتیجے میں درجنوں طلبہ بغیر کسی متبادل میڈیکل کالج کے رہ گئے ہیں، جس سے ان کے تعلیمی مستقبل پر شدید سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں اب قابلیت اور میرٹ کے بجائے مذہبی شناخت کو فیصلہ کن بنایا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت نہ صرف کشمیری مسلمان طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک اور مثال ہے بلکہ بھارت کے تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور سیاسی مداخلت کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔