کسی بھی جارحیت کے نتائج کی ذمہ داری آغاز کرنے والوں پر ہوگی، ایران کا اقوام متحدہ میں موقف

کسی بھی جارحیت کے نتائج کی ذمہ داری آغاز کرنے والوں پر ہوگی، ایران کا اقوام متحدہ میں موقف
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی کشیدگی یا براہِ راست تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم اگر کسی جانب سے جارحیت کی گئی تو بھرپور اور قانونی جواب دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ، جس نے گزشتہ بار 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا، اب سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایران میں 8 اور 10 جنوری کے دوران داعش طرز کی دہشتگردی کی کارروائیاں ہوئیں، جن میں شہریوں کو زندہ جلایا گیا، اہلکاروں پر تشدد کیا گیا اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی تاکہ مداخلت کا بہانہ بنایا جا سکے۔
ایرانی نائب مندوب نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے نام پر کسی بھی طاقت کے استعمال کو جائز ٹھہرانا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی غیر قانونی اقدام کی صورت میں آرٹیکل 51 کے تحت قانونی اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
غلام حسین نے زور دیا کہ یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بیان ہے، اور اس کے تمام نتائج ان افراد کی ذمہ داری ہوں گے جو ایسے غیر قانونی اقدامات کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کو مسترد اور مذمت کرے تاکہ عالمی امن کو خطرہ نہ لاحق ہو۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












