چاہ بہار سے دستبرداری؛ بھارت کی ایران کے ساتھ تعلقات کی اصلیت سامنے آ گئی

Withdrawal from Chabahar: The Reality of India’s Relations with Iran Comes to Light
مفادات کے حصول کی خاطر ایران سے کیے گئے معاہدے کو ذرا سے امریکی دباؤ میں ترک کر دینا بھارت کی دوغلی پالیسیوں کا ثبوت ہے۔
بھارتی میڈیا کی معاشی رپورٹس کے مطابق بھارت نے پابندیوں کے نفاذ سے قبل تہران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی تاکہ امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق افراد اور اداروں کو بچایا جا سکے۔
ماہرین معاشی امور کے مطابق خدشہ ہے کہ بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ بظاہر سرمایہ کاری کیلئے لی تھی لیکن حقیقت میں وہ اس کو مذموم عزائم کیلئے استعمال کر رہا تھا، بھارت کی یہ کارروائی واضح ہے کہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کمپنی خاص طور پر چاہ بہار کو حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق امریکی پابندی سے اس امر کا احتمال تھا کہ یہ کمپنی اور اس کی اصلیت سامنے آ جائے گی جس سے بھارت کی ساکھ کو بےحد نقصان ہوتا۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بندرگاہ سے ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ” را” کی سرگرمیاں جاری تھیں، ایران اسرائیل جھڑپ کے بعد بھی یہ بندرگاہ اور یہاں سے ہونے والی سازشوں پر ایرانی حکام الرٹ ہو چکے تھے۔
ماہرین کی رائے کے مطابق اس بندرگاہ سے نکل جانا بھارتی ساکھ کیلئے مناسب سمجھتے ہوئے ایران کے ساتھ اصولوں پر مبنی تعلقات کا بیانیہ ترک کرنے میں عافیت سمجھی گئی، بھارت نے ایران سے اپنے وعدے اور طویل مدتی شراکت داری کو مفاد کے لیے نظرانداز کر دیا ہے، اس اقدام سے بھارتی متوازن خارجہ پالیسی کا جھوٹا ڈھونگ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











