پینشنرز کیلئے خوشخبری؛ عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

Good news for pensioners: Court issues a major ruling
سپریم کورٹ نے پنشن سے متعلق ایک اہم اور واضح فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی سرکاری رعایت نہیں بلکہ ملازم کا آئینی حق ہے۔ عدالت نے ایک شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ ختم کر دیا۔
عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا۔ استعفیٰ دیتے وقت وہ 20 سال کی ملازمت مکمل کر چکا تھا، جو اس وقت کے قانون کے مطابق پنشن کے لیے کافی مدت تھی۔ اس کے باوجود متعلقہ محکمہ نے پنشن دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جسٹس شفیع صدیقی کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ نے غلط بنیادوں پر پنشن کی درخواست رد کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کے لیے 50 سال کی عمر کی شرط لاگو نہیں ہوتی تھی بلکہ 20 سال کی سروس ہی کافی تھی۔ عدالت کے مطابق پنشن دیر سے مانگنے سے حق ختم نہیں ہوتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کا حوالہ دے کر پنشن کی مخالفت کی، تاہم یہ ریگولیشن صرف سروس کی گنتی سے متعلق ہے، پنشن کے حق سے اس کا براہ راست تعلق نہیں بنتا۔ عدالت نے محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح کو قانون کے خلاف قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح پیغام دیا کہ سرکاری ملازمین کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور کسی بھی شہری کو اس کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












