امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعدہ اعلان کردیا؛ وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کیے

ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔ اس معاہدے پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں دستخط کیے گئے، جہاں پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس عالمی امن منصوبے میں شمولیت اختیار کی۔
تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہوئے اور انہوں نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے۔ اس موقع پر امریکی صدر اور وزیراعظم کے درمیان خوشگوار گفتگو بھی ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ کی بحالی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں دنیا بھر میں آٹھ بڑی جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان جنگ رکوانا عالمی امن کے لیے ضروری تھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل اور ایران، سربیا اور کوسوو، مصر اور ایتھوپیا سمیت کئی ممالک کے تنازعات حل کرانے میں بھی امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کے بعد دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہوئی ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، یو اے ای، اردن، انڈونیشیا، قازقستان، آذربائیجان، ہنگری اور آرمینیا سمیت کئی ممالک شامل ہوچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور شام پر عائد پابندیاں بھی ختم کی جاچکی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو ممالک کو دفاعی بجٹ بڑھانے پر بھی آمادہ کیا گیا ہے اور امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے جو عالمی امن کے لیے کام کر رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











