گل پلازہ سانحہ: ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر

30 bodies recovered from a shop in Gul Plaza; death toll rises to 61
کراچی کے افسوسناک گل پلازہ سانحے میں ریسکیو آپریشن انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
سینئر فائر آفیسر ظفر خان کے مطابق اب ملبے سے مکمل لاشیں نہیں بلکہ صرف انسانی ہڈیاں مل رہی ہیں، جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ کے تہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت پر موجود ڈیزل ٹینک کو بروقت نہیں اتارا گیا تھا، اور جب اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی گئی تو اسی دوران اس میں آگ لگ گئی، جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد عمارت کا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اب وہ مزید ریسکیو کے قابل نہیں رہی۔ اب صرف سرچنگ کا عمل باقی ہے تاکہ ملبے میں موجود باقی انسانی باقیات کو نکالا جا سکے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے گل پلازہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرچ آپریشن آخری مراحل میں ہے اور امکان ہے کہ آج یہ مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایس بی سی اے کی نگرانی میں ہو رہا ہے تاکہ کسی قسم کے مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق اب تک 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 16 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق 6 لاشیں ایسی تھیں جو قابل شناخت تھیں، جبکہ 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے اور ایک کی شناخت گلے میں موجود لاکٹ سے کی گئی۔
تحقیقاتی حکام نے سانحے کی ابتدائی رپورٹ بھی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی بلکہ یہ آگ ایک دکان میں موجود مصنوعی پھولوں سے شروع ہوئی جہاں بچے کھیل رہے تھے۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، جس سے دکان میں موجود سامان نے آگ پکڑ لی۔ آگ تیزی سے بجلی کی تاروں میں پھیلی اور چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد نے باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن کئی داخلی اور خارجی راستے بند ہونے کی وجہ سے شدید بھگدڑ مچ گئی، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ باہر نہ نکل سکے اور یہ حادثہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گیا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ سانحہ 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے کے بعد پیش آیا تھا، جس میں اب تک 67 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی باقیات کے منتظر ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









