آیت اللہ خامنہ ای کی علاقائی جنگ کی دھمکی کے بعد ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پُرامید

After Ayatollah Khamenei’s warning of a regional war, Trump remains hopeful for a deal with Iran
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے علاقائی جنگ کے انتباہ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پُرامید ہیں۔
اتوار کے روز آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی جنگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو متاثر کرے گی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ بار بار جنگی جہازوں کی بات کرتے ہیں، مگر ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایرانی عوام دباؤ اور دھونس سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران کسی ملک کے خلاف جنگ شروع کرنے کا خواہاں نہیں۔ تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا یا ایرانی قوم کو ہراساں کیا گیا تو سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے پُرامید ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کا علاقائی جنگ کی بات کرنا حیران کن نہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وقت ہی بتائے گا کہ انتباہ درست تھا یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت خطے میں 6 ڈسٹرائر، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لیٹورل کامبیٹ شپ تعینات ہیں، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











