امریکہ – ایران مذاکرات : کیا دباؤ میں طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ پائیدار ثابت ہو سکے گا؟ تجزیہ

عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے ایران۔امریکہ مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کے مستقبل سے جڑے ہیں جو پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک باضابطہ طور پر ایک میز پر بیٹھے ہیں۔
لیکن واشنگٹن ڈی سی کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں مڈل ایسٹ اسٹڈیز کی ڈائریکٹر سینا ازودی، انٹرنیشنل کرائسز گروپ (ایران پروجیکٹ) کے ڈائریکٹر علی واعز، عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خلیل جحشاں اور سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر فیلو نیگار مرتضوی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ بات چیت کسی مفاہمت کی طرف بڑھے گی یا مزید کشیدگی کی بنیاد رکھے گی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار امریکی حکمتِ عملی روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ایک وسیع دباؤ کی پالیسی پر مبنی ہے، جسے بعض ماہرین “میکسی ملسٹ اپروچ” قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ مذاکرات کو صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رکھنے کے بجائے بیلسٹک میزائل پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور داخلی انسانی حقوق کی صورتحال جیسے موضوعات بھی شامل کیے جائیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات اسی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مؤقف اسرائیل کی دیرینہ خواہشات سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جہاں ایران کے دفاعی اور علاقائی کردار کو محدود کرنا ایک اسٹریٹیجک ہدف سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کے لیے میزائل پروگرام محض عسکری صلاحیت نہیں بلکہ قومی سلامتی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں تہران اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے موڈ میں نظر نہیں آتا۔ ایران کے نزدیک میزائل پروگرام پر قدغن کا مطلب مستقبل کے ممکنہ حملوں کے سامنے اپنی دفاعی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں غیر متوقع بیانات اور سخت لہجہ ایک نفسیاتی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس ماحول میں ایرانی وفد کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ سفارت کاری غالب آئے گی یا طاقت کا استعمال۔
مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کے اندر حالیہ احتجاج اور سیکیورٹی کارروائیوں کے بعد امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں داخلی عوامل کو بھی بطور سفارتی دباؤ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ معاشی پابندیوں اور حملوں نے ایران کو دباؤ میں رکھا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق ایران اب بھی خطے میں جوابی صلاحیت رکھتا ہے۔ خلیج فارس میں اس کی عسکری سرگرمیاں اور دفاعی تیاری اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مسقط مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دباؤ کے ماحول میں طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ پائیدار ثابت ہو سکے گا؟ خطے کی معیشت، عالمی توانائی کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اس پیش رفت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ مذاکرات مفاہمت کا آغاز ہیں یا ایک نئی کشیدگی کی تمہید۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









