اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، 31 افراد شہید، 100 سے زائد زخمی

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں کی مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران خودکش دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 169 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال منتقل کیا گیا۔ شہری ایمبولینس کے علاوہ ذاتی گاڑیوں میں بھی زخمیوں کو اسپتال پہنچاتے رہے۔
اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ترجمان پمز کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر اسپتال میں مکمل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ مین ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ آرتھوپیڈک، برن سنٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور جانی نقصان کے بارے میں ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ خودکش جہنمی کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 12 معصوم نمازیوں کی شہادت کی اطلاع ہے، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
ادھر اسلام آباد دھماکے کے بعد راولپنڈی میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی۔ مختلف پوائنٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ داخلی راستوں پر پولیس چیکنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔
وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں واقعے کی مکمل اور فوری تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کا جلد از جلد تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی اور وزیر صحت کو ہدایت دی کہ وہ خود طبی انتظامات کی نگرانی کریں تاکہ متاثرین کو فوری اور معیاری علاج مہیا کیا جا سکے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کیخلاف جرم ہے۔ قوم مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس نے اسلام آباد بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملکی سالمیت پر حملہ ہے۔ دہشت گرد خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ قوم کو متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہوگا۔ بے گناہ افراد کو شہید کرنے والے اسلام کی تعلیمات سے نابلد ہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کی نئی لہر کو روکنے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کسی بے گناہ کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ترلائی میں خودکش دھماکے کی مذمت کی اور نمازیوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











