ایران پر جارحیت کا خمیازہ دشمن اپنی سرزمین پر بھگتے گا

ایران پر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر یوسی منصور نے اپنے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی نازک اسٹریٹجک بساط میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتیاں اور تہران کے زیرِ قیادت محورِ مزاحمت کے درمیان کشیدگی ہر لمحہ کسی بڑے تصادم کی بنیاد رکھ سکتی ہے، اور یہی پس منظر ایران کی اُس اسٹریٹجک پلے بک کو سمجھنے کا تقاضا کرتا ہے، جو محض بیانات یا جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ غیر متناسب حربوں، خفیہ نیٹ ورکس اور کثیرالجہتی دباؤ پر مبنی ہے۔
دفاعی پالیسی سے جارحانہ پیش قدمی کی جانب یہ واضح شفٹ 6 جنوری کو سپریم ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں سامنے آئی جہاں پہلی مرتبہ اس امکان پر سنجیدہ غور کیا گیا کہ ایران اب کسی حملے کا انتظار کیے بغیر پیشگی کارروائی کر سکتا ہے، جس کی توثیق 11 جنوری کو مجلس کے اسپیکر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن محمد باقر قالیباف کے بیانات سے ہوئی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور نائب کمانڈر احمد وحیدی کی گفتگو نے اعلیٰ سطح کی عسکری تیاری کی کا تاثر دیا۔
اہم حلقوں اور اخبار وطنِ امروز نے حالیہ مظاہروں کو امریکی اور اسرائیلی سازش قرار دیتے ہوئے پیشگی کارروائی کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جائز دفاعی حق کے طور پر پیش کیا، تاہم ایران کی حکمتِ عملی صرف براہِ راست عسکری اقدام تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشی اور جغرافیائی مجبوریاں حساب بھی شامل ہیں، جس کی نمایاں مثال آبنائے ہرمز ہے۔
آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کا تقریباً بیس فیصد گزرتا ہے، مگر اسی راستے سے گزرنے والا پچاسی فیصد تیل چین اور بھارت جیسے ایران کے بڑے معاشی شراکت داروں کو جاتا ہے، اس لیے اس گزرگاہ کی بندش ایران کے لیے اپنے ہی خریداروں کو ناراض کرنے اور معیشت کو مفلوج کرنے کے مترادف ہو گی، جو اسے ایک خود کو نقصان پہنچانے والے اس قدم سے باز رکھتی ہے؛ اس کے برعکس تہران کی غیر متناسب صلاحیتوں کا رخ مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں ایف بی آئی کی تحقیقات اور حزب اللہ کے بعض عناصر کے انکشافات کے مطابق امریکی سرزمین پر سلیپر سیلز کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔
اکتوبر 2025 میں موساد کی جانب سے محسن برگی کی شناخت منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ دعویٰ مزید تقویت پکڑ گیا کہ قدس فورس کے نیٹ ورکس نے نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، ہیرالڈ اسکوائر، فین وے پارک اور واشنگٹن مونیومنٹ جیسے حساس مقامات کی نگرانی کی، اور اسی تناظر میں قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کا یہ بیان کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے ذمہ دار اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے، محض دھمکی نہیں بلکہ ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے؛ اسی طرح ایران اپنے پراکسی نیٹ ورک کو نئے محاذوں پر فعال کر رہا ہے، جس کا عندیہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے نومبر 2025 میں دیا جب انہوں نے انکشاف کیا کہ حوثی جنگجو اب یمن تک محدود نہیں بلکہ سعودی عرب یا عراق کے راستے اردن میں داخل ہو کر اسرائیل کی مشرقی سرحد پر نیا محاذ کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ شام میں ان کی موجودگی تہران کی کثیرالجہتی جنگی حکمتِ عملی کو مزید واضح کرتی ہے۔
عسکری اعتبار سے جنگ ام کلاوی کے اعداد و شمار بھی فیصلہ کن اشارے دیتے ہیں جہاں ایرانی میزائل پروگرام نسبتاً مؤثر ثابت ہوا اور پانچ سو پچاس میزائلوں میں سے انہتر اسرائیلی دفاعی نظام کو چیرنے میں کامیاب رہے، جس سے چونتیس ہلاکتیں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا، اس کے برعکس ڈرونز کی ننانوے فیصد روک تھام نے ان کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے، جس کے بعد یہ امکان مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ایران آئندہ سیچوریشن اسٹرائیک کے لیے میزائلوں پر زیادہ انحصار کرے گا۔
مجموعی طور پر ایران کا طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے نپے تلے اور تدریجی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے، جیسا کہ قطر میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی پیشگی اطلاع دے کر غیر ضروری اشتعال انگیزی سے گریز کیا گیا، تاہم موجودہ کشیدگی اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا تہران کی یہ پیچیدہ اور خفیہ اسٹریٹجک پلے بک اسے کسی بڑے وجودی خطرے سے بچانے میں کامیاب ہو سکے گی یا یہی حکمتِ عملی اسے ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل دے گی جہاں سے واپسی ممکن نہ رہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












