امریکہ کا دعویٰ مسترد، چین نے کوئی جوہری دھماکہ نہیں کیا : عالمی ادارہ

جوہری نگرانی کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ اسے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو اس امریکی دعوے کی تائید کریں کہ چین نے سنہ 2020 میں خفیہ طور پر جوہری دھماکوں کے تجربات کیے اور انہیں چھپانے کی کوشش کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب وزیر برائے عالمی سلامتی، تھامس ڈی نانو نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں کے تجربات کیے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین کی فوج نے ان تجربات کو چھپانے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اقدامات جوہری تجربات پر پابندی سے متعلق عالمی وعدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ 22 جون 2020 کو ایسا ہی ایک تجربہ کیا گیا۔
ڈی نانو نے یہ الزامات سوشل میڈیا پر بھی دہرائے اور روس کے ساتھ نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے نئے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیو اسٹارٹ 2010 میں طے پایا تھا اور 2026 میں غیر مؤثر ہو چکا ہے، کیونکہ ایک جوہری طاقت غیر معمولی رفتار سے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ دوسری ریاست اپنے جوہری نظام کو بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی دے رہی ہے۔
دوسری جانب جوہری تجربات پر نظر رکھنے والی تنظیم کے ایگزیکٹو سیکریٹری رابرٹ فلائیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ادارے کے نگرانی کے نظام نے کسی ایسے واقعے کی نشاندہی نہیں کی، جو جوہری ہتھیار کے تجرباتی دھماکے کی خصوصیات سے مطابقت رکھتا ہو۔
چین کے سفیر برائے جوہری تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے کانفرنس میں ڈی نانو کے الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ بیجنگ نے ہمیشہ جوہری معاملات میں ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے؛ جبکہ امریکا اپنے بیانات میں چین کی دفاعی صلاحیتوں کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا کہ چین نے ہمیشہ جوہری تجربات پر عائد عارضی پابندی کے وعدے کی پاسداری کی ہے اور امریکا کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
چین اور امریکا دونوں نے جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر دستخط تو کیے ہیں مگر اس کی توثیق نہیں کی، جبکہ روس نے اس معاہدے کی توثیق کی تھی لیکن 2023 میں اسے واپس لے لیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل امریکی فوج کو جوہری تجربات کی بحالی کی تیاریوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ دیگر ممالک بھی ایسے تجربات کر رہے ہیں ۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ ’’برابری کی بنیاد‘‘ پر جوہری تجربات شروع کرے گا، لیکن انہوں نے نوعیت واضح نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ چین کو بھی جوہری معاہدے میں شامل کیا جائے، تاہم بیجنگ کی جانب سے اس تجویز میں خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










