اسلام آباد خودکش حملہ آور دھماکے سے قبل کیا کرتا رہا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

What Was the Islamabad Suicide Bomber Doing Before the Attack? Key Details Revealed
اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیش کے دوران کئی اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ سکیورٹی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل فائرنگ بھی کی۔ اس نے راستے میں دو گولیاں چلائیں۔ بعد ازاں مسجد کے ہال میں داخل ہو کر مزید چھ فائر کیے۔ اس کے فوراً بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں تقریباً چار کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خودکش جیکٹ میں بڑی تعداد میں بال بیئرنگ شامل تھیں۔ اس وجہ سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نوشہرہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔ وہ پہلے ہی خودکش جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔
حملے سے پہلے ملزم کچھ دیر ایک قریبی ہوٹل میں بیٹھا رہا۔ اس کے بعد وہ کھنہ روڈ کے راستے پیدل چلتا ہوا مسجد تک پہنچا۔ تفتیشی حکام کے مطابق حملہ آور نے دو فروری کو مسجد کی ریکی بھی کی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور مئی کے مہینے میں افغانستان گیا تھا۔ وہ جون میں واپس آیا۔ افغانستان سے واپسی کے بعد اس نے باجوڑ میں ایک نئی موبائل سم بھی ایکٹیویٹ کی۔ اس سم کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ چھ فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں یہ خودکش دھماکہ ہوا تھا۔ اس افسوسناک واقعے میں 33 افراد شہید ہوئے۔ جبکہ 150 سے زائد نمازی زخمی ہوئے تھے۔ کئی زخمی اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










