پیر، 9-فروری،2026
پیر 1447/08/21هـ (09-02-2026م)

امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریفائنریز روسی تیل کی خریداری سے گریزاں

09 فروری, 2026 11:42

بھارت کی بڑی آئل ریفائنریز نے روسی خام تیل کی خریداری سے گریز شروع کر دیا ہے اور تجارتی و ریفائننگ ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وہ آئندہ کچھ عرصے تک ایسی ڈیلز سے دور رہیں گی۔

جمعے کے روز امریکہ اور بھارت ایک فریم ورک پر متفق ہوئے جس کے تحت مارچ تک تجارتی معاہدہ طے کیے جانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ٹیرف میں کمی اور معاشی تعاون کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم اور ریلائنس انڈسٹریز نے مارچ اور اپریل میں لوڈ ہونے والے روسی تیل کے لیے تاجروں کی پیشکشیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم بعض ریفائننگ ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کے لیے کچھ ترسیلات پہلے ہی طے ہو چکی تھیں۔

ان کمپنیوں اور وزارتِ تیل نے اس حوالے سے تبصرے سے گریز کیا، جبکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی کی صورتحال اور بدلتی عالمی صورتحال کے مطابق توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا بھارت کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ توانائی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

اگرچہ امریکہ اور بھارت کے مشترکہ بیان میں روسی تیل کا براہِ راست ذکر نہیں تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد ٹیرف واپس لے لیا، جو روسی تیل کی خریداری کے باعث لگایا گیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق نئی دہلی نے روسی تیل کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بھارتی ریفائنریز اب مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے زیادہ تیل خرید رہی ہیں۔ روسی حمایت یافتہ نجی ریفائنری نایارا روسی تیل پر انحصار کرتی ہے، تاہم وہ بھی اپریل میں مرمت کے باعث بند رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ہدایات نہ آنے تک ریفائنریز روسی تیل کی خریداری بحال نہیں کریں گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔