سعودیہ میں پاکستان کے ہائپرسونک میزائل کی اچانک نمائش سے سب حیران

ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے نومبر 2025ء میں اپنے جدید ترین ’’اسمیش‘‘ ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ تو کر لیا تھا، تاہم اس پیش رفت کو جان بوجھ کر عالمی سطح پر نمایاں نہیں کیا گیا، جس کے باعث دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب سعودی عرب میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی دفاعی نمائش کے دوران اچانک اس میزائل کی باضابطہ نقاب کشائی سامنے آئی، ایک ایسا اعلان جس نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی دفاعی حلقوں میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی، کیونکہ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان نے عملی طور پر ایک ایسے ہتھیار کو پیش کیا جو مکمل طور پر ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے اور جدید جنگی حکمتِ عملی میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
اسمیش میزائل اپنی آخری پرواز میں آواز کی رفتار سے آٹھ گنا زیادہ یعنی تقریباً 9,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرتا ہے اور یہ کوازی بیلسٹک راستہ اختیار کرتا ہے، جس میں میزائل ابتدائی مرحلے میں بلند سطح تک پہنچتا ہے اور پھر انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ ہدف پر جھپٹتا ہے، یہی مخصوص پرواز اور غیر معمولی رفتار اسے موجودہ فضائی دفاعی نظاموں کے لیے تقریباً ناقابلِ گرفت بنا دیتی ہے، موجودہ مرحلے میں اس کی حدِ ضرب 350 کلومیٹر بتائی جا رہی ہے، مستقبل میں اسمیش ٹو ورژن کے ذریعے اس رینج کو 700 سے 1,000 کلومیٹر تک بڑھانے پر کام جاری ہے، جس سے اس کی اسٹریٹیجک افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
اس میزائل کا کامیاب تجربہ پاک بحریہ کے ذوالفقار کلاس فریگیٹ سے کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسمیش نہ صرف زمینی بلکہ سمندری اہداف کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
خطے کے تناظر میں اگر بھارت کی بات کی جائے تو وہ بھی ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہے، خصوصاً روس کے ساتھ مشترکہ طور پر براہموس- ٹو منصوبے پر کام کر رہا ہے، لیکن یہ منصوبہ تاحال ترقیاتی مراحل میں ہے اور اس کی عملی تعیناتی فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتی، اس کے برعکس پاکستان نے اسمیش کے ذریعے ایک فعال، آزمودہ اور قابلِ استعمال صلاحیت حاصل کر لی ہے، جو اسے خطے میں پہلی بار بحری جہاز سے لانچ ہونے والا ہائپرسونک میزائل رکھنے والا ملک بنا دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں میں اس پیش رفت کے بعد تشویش پائی جا رہی ہے اور انہیں اپنی بحری اور میزائل دفاعی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑ رہا ہے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو روس اور چین پہلے ہی ہائپرسونک ہتھیاروں کے میدان میں نمایاں پیش رفت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھی اپنے کنوینشنل پرامپٹ اسٹرائیک پروگرام کے تحت اس دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے ماحول میں پاکستان کا اسمیش میزائل محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم اسٹریٹیجک برتری کے طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ یہ بحرِ ہند میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے اور مستقبل کی بحری جنگی حکمتِ عملی کو نئی جہت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب میں اس کی اچانک نمائش نے عالمی سطح پر یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب محض دفاعی دوڑ کا تماشائی نہیں رہا بلکہ ہائپرسونک ٹیکنالوجی کی عالمی مسابقت میں ایک سنجیدہ اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آ چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی دفاعی تجزیہ کار اس پیش رفت کو خطے اور دنیا کی اسٹریٹیجک سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










