ایپسٹین فائلز : برطانیہ اور امریکہ میں سیاسی و شاہی شخصیات پر دباؤ، تحقیقات کے مطالبات

پیرس : اے ایف پی کی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے محکمۂ انصاف کی جانب سے مرحوم جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تیس لاکھ دستاویزات جاری کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی ہے، اگرچہ ایپسٹین کے ای میلز یا فائلوں میں کسی کا نام آنا بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا، تاہم ان انکشافات کے نتیجے میں متعدد بااثر شخصیات کو سنگین سیاسی، قانونی اور اخلاقی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں سب سے نمایاں اثرات برطانیہ میں دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں شاہ چارلس کے بھائی پرنس اینڈریو ایک بار پھر کڑی تنقید اور جانچ کی زد میں آ گئے ہیں۔
پرنس اینڈریو کو گزشتہ سال ایپسٹین سے تعلقات کے باعث شاہی خطاب سے محروم کیا جا چکا تھا، جبکہ اب نئی تصاویر منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں انہیں ایک نامعلوم خاتون کے اوپر جھکے ہوئے دکھایا گیا ہے، اسی کے ساتھ ایک قانونی دستاویز میں ایک غیر ملکی رقاصہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2006 میں اسے ایپسٹین اور پرنس اینڈریو دونوں کے ساتھ جنسی تعلق پر مجبور کیا گیا، مزید برآں ایپسٹین کی ایک اور مبینہ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ 2010 میں ایپسٹین نے اسے برطانیہ بھیجا جہاں اس نے پرنس اینڈریو کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور بعد ازاں اسے بکنگھم پیلس کا دورہ بھی کرایا گیا، ان انکشافات کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم نے پرنس اینڈریو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپسٹین سے متعلق امریکی کانگریسی تحقیقات میں گواہی دیں، تاہم خود وزیرِ اعظم کو بھی اس معاملے میں دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ان کی جانب سے پیٹر مینڈلسن کو امریکی سفیر مقرر کرنے کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مینڈلسن کو گزشتہ سال ایپسٹین سے روابط کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جبکہ نئی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے 2009 میں ایپسٹین کے ساتھ خفیہ سرکاری منصوبے شیئر کیے اور 2003 سے 2004 کے دوران اس سے پچھتر ہزار ڈالر وصول کیے، ای میلز میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انہوں نے 2009 میں ایپسٹین کی بچوں کے جنسی جرائم میں سزا کے بعد رہائی پر خوشی کا اظہار کیا، جس پر وزیرِ اعظم کی اپنی جماعت کے بعض ارکان نے بھی ان کی قیادت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں بھی اس معاملے کے اثرات نمایاں ہیں جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور سابق صدر بل کلنٹن کے نام فائلوں میں بار بار سامنے آئے ہیں۔
بل گیٹس نے ایپسٹین کے ساتھ گزارے گئے وقت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ ایک غیر ارسال شدہ ای میل میں ایپسٹین نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے گیٹس کو غیر ازدواجی تعلقات کے باعث لاحق جنسی بیماری کے علاج میں مدد دی، بل کلنٹن کی ایپسٹین کے ساتھ متعدد تصاویر پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی تھیں، اور اب ریپبلکن دباؤ کے تحت وہ اپنی اہلیہ ہلیری کلنٹن کے ہمراہ کانگریسی تحقیقات میں گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس اسکینڈل کو ڈیموکریٹس کا مسئلہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ان کا نام فائلوں میں ایک ہزار سے زائد مرتبہ آیا ہے اور وہ گزشتہ سال تک ان دستاویزات کی اشاعت روکنے کی کوشش کرتے رہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب ملک کو آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ ان کے خلاف کوئی نیا انکشاف نہیں ہوا، تاہم ایپسٹین کے جنسی استحصال سے بچ جانے والے افراد اس مؤقف سے متفق نہیں اور وہ مزید تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین اسکینڈل کے اثرات ابھی ختم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












