ایپسٹین فائلز : اماراتی خاتون سفارتکار کی اقوامِ متحدہ میں تقرری پر تنازعہ

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں متحدہ عرب امارات کی سفارتکار ہند العویس کا نام سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
دستاویزات میں کسی غیر قانونی عمل کا براہِ راست ثبوت تو موجود نہیں بلکہ ایسے روابط اور واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے، جو وقت، رسائی اور پیشہ ورانہ پیش رفت کے تناظر میں سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
ایپسٹین فائلز کے مطابق اکتوبر 2011 سے مئی 2012 کے درمیان جیفری ایپسٹین اور ہند العویس کے درمیان براہِ راست اور مسلسل ای میل رابطہ رہا، جن میں ذاتی نوعیت کے پیغامات بھی شامل ہیں۔
ایک ای میل میں ہند العویس ایپسٹین سے اپنی بہن کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے جوش و خروش کا اظہار کرتی ہیں، جبکہ جنوری 2012 میں ایپسٹین کے شیڈول میں ہند العویس اور ان کی بہن کے ساتھ بالمشافہ ملاقات درج ہے، اسی دن کی ای میلز میں ایپسٹین کی جانب سے دونوں کے ساتھ مزید وقت گزارنے کی خواہش ظاہر کی گئی، جس پر ہند العویس نے جواب دیا کہ ایک لڑکی کو تیار کرنا ہی مشکل ہوتا ہے، دو کو تیار کرنا اس سے بھی زیادہ، بعد ازاں مئی 2012 میں بھی ویک اینڈ ملاقاتوں سے متعلق ای میل رابطے جاری رہے۔
ان تمام تبادلوں کے دوران ایک ای میل میں ایپسٹین نے ہند العویس کو یہ بھی لکھا کہ ان کے گھر اس وقت ایک ایسی شخصیت موجود ہے، جو ان کے مستقبل کے کیریئر کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، یہ تمام روابط اقوامِ متحدہ میں ان کی تقرری سے تقریباً چار سال قبل کے ہیں، بعد ازاں ہند العویس نے اقوامِ متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن میں کونسلر کے طور پر خدمات انجام دیں اور سات ستمبر 2015 کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صدر کے دفتر کی سینئر ایڈوائزر مقرر ہوئیں، جہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین سے وابستہ کردار ادا کیا، وہ اس وقت متحدہ عرب امارات کی مستقل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
جاری کردہ دستاویزات میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ جیفری ایپسٹین نے ہند العویس کی اقوامِ متحدہ میں تقرری براہِ راست ممکن بنائی، تاہم ای میلز میں سامنے آنے والی قربت، ملاقاتوں کا تسلسل اور کیریئر سے متعلق اشارے ایسے عوامل ہیں، جنہوں نے مبصرین کو سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ روابط محض سماجی نوعیت کے تھے یا ان کے پیچھے کوئی اور اثر و رسوخ بھی کارفرما تھا، جس پر اب بین الاقوامی سطح پر مزید وضاحت اور شفافیت کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












