بھارت میں مسلمان مخالف سیاست اور نفرت انگیز بیانیہ، اپوزیشن کی شدید تنقید

کراچی : بھارت میں ہندوتوا نظریے، بی جے پی کی سیاست اور مسلم اقلیت کے حوالے سے جاری بحث ایک نئی شدت اختیار کر گئی ہے، جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا کو مبینہ طور پر مسلمانوں کی تصاویر پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں دیوار پر نصب تصویر پر انگریزی الفاظ “No Mercy” درج تھے، جس پر وزیر اعلیٰ فائر کرتے نظر آئے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی اپوزیشن نے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور نفرت انگیز رویے کی مثال قرار دیا۔ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کو محض سوشل میڈیا مواد سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی اور سماجی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل بھی آسام کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اقلیتوں کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جو ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی قیادت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مذہبی شناخت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس کا براہِ راست اثر بھارت کی مسلم اقلیت پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات اور ویڈیوز بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور سماجی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس ویڈیو پر باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم اس معاملے نے ایک بار پھر بھارت میں مذہبی رواداری، جمہوری اقدار اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے بحث کو تیز کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










