بدھ، 11-فروری،2026
بدھ 1447/08/23هـ (11-02-2026م)

امریکہ سے تجارتی نہیں، غلامی کا معاہدہ ہوا ہے : بھارتی ماہرین پھٹ پڑے

11 فروری, 2026 08:27

بھارتی پروفیسر اور عالمی امور کے معروف تجزیہ کار ڈاکٹر برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ حالیہ بھارت امریکہ تجارتی فریم ورک یہ بنیادی سوال کھڑا کر رہا ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی دونوں فریقین کے لیے یکساں فائدہ مند ہے یا نہیں،

تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بظاہر تزویراتی شراکت داری کے خوشنما لبادے میں لپٹا یہ معاہدہ درحقیقت ایک گہرے ساختی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بھارت کی جانب سے کیے گئے وعدے فوری، قابلِ پیمائش اور سخت نگرانی کے تابع ہیں جبکہ امریکہ کی رعایتیں عارضی، مشروط اور قابلِ واپسی نوعیت کی ہیں جن میں 2025 میں عائد کی گئی بعض یکطرفہ پابندیوں کی جزوی واپسی بھی شامل ہے۔

اس صورتحال میں بھارت کو اپنی منڈیوں تک امریکی رسائی فوری طور پر فراہم کرنا پڑ رہی ہے جبکہ امریکی منڈی تک بھارتی رسائی بدستور انتظامی صوابدید اور پالیسی رکاوٹوں کے حصار میں جکڑی ہوئی ہے۔

معاہدے کا ایک نہایت اہم پہلو اگلے پانچ برسوں میں امریکہ سے پانچ سو ارب ڈالر کی خریداری کا وہ غیر معمولی عہد ہے جس کے تحت بھارت کو توانائی، بوئنگ طیارے، کوئلہ اور جدید ٹیکنالوجی بڑی مقدار میں درآمد کرنا ہوگی، تاہم اس کے مقابلے میں امریکہ نے بھارتی مصنوعات یا خدمات کی کسی طے شدہ مقدار کی درآمد کا کوئی باہمی وعدہ نہیں کیا، جس سے خدشہ ہے کہ بھارت کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا جبکہ امریکہ کو اپنی اضافی پیداوار کے لیے ایک مستقل اور محفوظ منڈی مل جائے گی۔

مزید برآں یہ معاہدہ بھارت کو بالواسطہ طور پر روسی توانائی سے دستبرداری کی راہ پر ڈال رہا ہے کیونکہ امریکی مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری مرحلہ وار کم کرنے کا عندیہ دیا ہے، اس تناظر میں واشنگٹن کے پاس تعمیل کی جانچ اور محصولات دوبارہ نافذ کرنے کا مکمل اختیار برقرار ہے جو ایک صدارتی حکم کے ذریعے بغیر کانگریس کی منظوری کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ اور یو ایس ٹی آر کے بیانات بھی اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک برابر کے تزویراتی شراکت دار کے بجائے زیادہ تر ایک وسیع منڈی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکی محصولات اگرچہ کم ہو کر اٹھارہ فیصد تک آ گئے ہیں مگر وہ اب بھی ترجیحی قوم کے عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہیں، اس کے برعکس بھارت نے اپنی حساس زرعی منڈیاں سویا بین آئل، خشک میوہ جات، پھل اور الکوحل مصنوعات کے لیے کھول دی ہیں جس سے مقامی چھوٹے کسانوں کے لیے قیمتوں کے عدم استحکام اور مستقبل میں سماجی بے چینی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

معاہدے کے تحت بھارت کو محض چھ ماہ کے اندر میڈیکل ڈیوائسز اور آئی سی ٹی مصنوعات پر غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی جبکہ امریکی سینیٹری اور فائٹو سینیٹری معیارات بدستور ایک مضبوط دیوار بنے رہیں گے، جو بھارتی زرعی اور فارماسیوٹیکل برآمدات کی راہ میں رکاوٹ ہیں، مجموعی طور پر یہ معاہدہ بھارت کے لیے ایک ایسا لاک اِن ایفیکٹ پیدا کر رہا ہے، جس کے تحت موجودہ رعایتیں مستقبل کے کسی بھی دوطرفہ تجارتی معاہدے کی کم از کم بنیاد بن جائیں گی اور ان سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ جو سودا آج ایک تجارتی کامیابی دکھائی دیتا ہے اس کے اثرات مستقبل میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور کم خوشگوار ثابت ہو سکتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔