پاکستانی فوج کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا گمراہ کن بیانیہ مسترد

ایک سیاست دان کی جانب سے پاکستانی فوج کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے اور اسے کسی ایک صوبے یا گروہ سے منسوب کرنے کے رجحان کی سخت الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کار جان اچکزئی کے مطابق آبادی کے تناسب کے مطابق خیبر پختونخوا کی فوج میں نمائندگی سب سے زیادہ ہے، جس کے بعد سندھ کا نمبر آتا ہے، جہاں اس وقت تقریباً ایک لاکھ کے قریب افسران اور جوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بلوچستان سے ہونے والی نسلی بنیادوں پر بھرتیوں کا تناسب ساٹھ فیصد سے زائد رہا ہے، جس میں ڈیرہ بگٹی ریجن اور مکران بیلٹ جیسے علاقوں کے لیے مثبت امتیاز کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔
اسی طرح بلوچستان کے پشتون بیلٹ پر بھی بھرپور توجہ دی گئی، جس کے نتیجے میں وہاں سے تعلق رکھنے والے افسران نہ صرف بریگیڈیئر کے عہدوں تک پہنچے بلکہ کچھ میجر جنرل کے عہدے کے لیے بھی میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر زیر غور ہیں، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی فوج میں نمائندگی بھی نمایاں اور مضبوط ہے۔
اس کے برعکس پنجاب کی آبادی کے تناسب سے فوج میں بھرتیوں میں گزشتہ دس برسوں کے دوران واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس خلا کو دیگر صوبوں اور خطوں نے پُر کیا ہے۔ ایسے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض نسلی قوم پرست عناصر کی جانب سے پاکستانی فوج کو ’’پنجابی فوج‘‘ قرار دینا یا اسے ’’پنجاب بمقابلہ دیگر صوبے‘‘ کے بیانیے میں فٹ کرنا محض ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے، جسے وہ اپنی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیچتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
یہ عناصر فوج کو نام نہاد ’’چار اضلاع‘‘ تک محدود کرنے کی کوشش کے ذریعے اس قومی ادارے کو کمزور دکھانا چاہتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خود جانتے ہیں کہ پاکستان کی داخلی اور خارجی خودمختاری کا واحد مضبوط محافظ پاکستان آرمی ہی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











