بدھ، 11-فروری،2026
بدھ 1447/08/23هـ (11-02-2026م)

جنگ حل نہیں، مگر مذاکرات صرف جوہری معاملے پر ہوں گے : علی لاریجانی

11 فروری, 2026 10:56

ایرانی خبر رساں ایجنسی وانا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی گزشتہ روز عمان پہنچے جہاں انہوں نے عمانی حکام سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا۔

دورے کے دوران علی لاریجانی نے عمان ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر تفصیل سے گفتگو کی۔

لاریجانی نے کہا کہ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا تھا لیکن بات چیت کا رخ تبدیل کرنے والا فریق امریکہ تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ اگر مذاکرات حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ہوں تو تہران انہیں منفی نظر سے نہیں دیکھتا اور بات چیت کیلئے تیار ہے۔

علی لاریجانی کے مطابق موجودہ مذاکرات کا محور صرف جوہری معاملہ ہے اور کسی دوسرے مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ امریکی فریق بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ مذاکرات کو صرف نیوکلیئر مسئلے تک محدود رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ابتدا ہی سے یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ جنگ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا حل نہیں اور علاقائی مسائل کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ مخالف فریقوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مسائل کو طاقت کی زبان سے حل کرنے کی کوشش کی جس سے مذاکراتی عمل میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

ان کے مطابق اگر مذاکرات معقول دائرہ کار میں آگے بڑھیں تو کامیابی کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اضافی مطالبات سامنے لائے گئے جو مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائیں، جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض بیانات جن میں ایران کو ہتھیاروں کی طرف نہ بڑھنے کی شرط شامل ہے، تو اس سے بات چیت کا راستہ مزید دشوار ہو سکتا ہے۔

علی لاریجانی نے کہا کہ اگر امریکہ کو یہ تشویش ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی طرف نہ بڑھے تو اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس کے علاوہ دیگر معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کیا گیا تو مکالمے کا عمل مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں مزید معاملات تک وسعت دی جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ راستہ تہران اور واشنگٹن کے دیگر تنازعات پر بھی بات چیت کی طرف لے جائے گا، اس لیے توقعات کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔

لاریجانی کے مطابق امریکی جانب سے متعدد دعوتیں بھی دی جا چکی ہیں اور اب تک صرف ایک دور مذاکرات ہوا ہے جبکہ مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ایران مسائل کو جلد حل کرنا چاہتا ہے اور مذاکراتی عمل کو طول دینے کا خواہاں نہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔