معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو کیوں قتل کیا گیا؟

قطری میڈیا رپورٹ کے مطابق سیف الاسلام قذافی کو مغربی لیبیا کے پہاڑی قصبے زنتان میں ان کے کمپاؤنڈ کے اندر 19 گولیاں مار کر قتل کیا گیا، جہاں وہ 2011 میں گرفتاری کے بعد سے مقیم تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چار نقاب پوش افراد نے سیکیورٹی کیمروں کو ناکارہ بنانے کے بعد کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر یہ کارروائی کی، جبکہ تقریباً نوّے منٹ قبل ان کے محافظ نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہاں سے ہٹ گئے تھے۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد حملہ آور نہ بھاگے، نہ کوئی مقابلہ ہوا، نہ ہی کسی نے ذمہ داری قبول کی، اور وہ اسی خاموشی میں غائب ہو گئے جو لیبیا میں اکثر اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ قاتلوں کو تحقیقات کا کوئی خوف نہیں۔
سیف الاسلام معمر قذافی کے بیٹے تھے جنہوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصہ لیبیا پر حکومت کی، اور 2011 کے انقلاب میں اقتدار سے محروم ہو کر مارے گئے۔
2014 کے بعد سے لیبیا دو متحارب طاقت کے مراکز میں تقسیم ہے، مغرب میں طرابلس کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت اور مشرق میں خلیفہ حفتر کی عسکری گرفت، جسے متحدہ عرب امارات، روس اور مصر کی حمایت حاصل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس قتل کی نوعیت افراتفری کی پیداوار نہیں بلکہ ایک منظم آپریشن کی عکاس ہے، جس میں حملہ آوروں کو سیف کی نقل و حرکت، سیکیورٹی اور معمولات کا مکمل علم تھا۔
سیف کے قریبی حلقوں نے اسے اندرونی سازش قرار دیا ہے کیونکہ ان تک رسائی صرف اس شخص کو ہو سکتی تھی جسے ان کے معمولات اور حفاظتی انتظامات کی مکمل آگاہی ہو۔
برسوں تک سیف مختلف خفیہ انتظامات اور بعض اوقات روس سے منسلک سیکیورٹی تعاون کے تحت زندگی گزارتے رہے، مگر حملے کی رات یہ تمام تحفظ اچانک ختم ہو چکا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طریقہ کار اور صلاحیتیں ممکنہ ذمہ داروں کے دائرے کو محدود کرتی ہیں، کیونکہ اس نوعیت کی خاموش اور درست کارروائیاں لیبیا میں مخصوص طاقت کے نیٹ ورکس سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔
ماضی میں بھی حفتر کے زیر اثر علاقوں میں ناگوار شخصیات کو اسی خاموشی سے ہٹایا جاتا رہا ہے، جن میں محمود الورفلی جیسے افراد شامل ہیں جنہیں دن دہاڑے قتل کیا گیا مگر کوئی مؤثر تحقیقات نہ ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق معمر قذافی کے دور کا سیاسی و قبائلی ڈھانچہ 2011 کے بعد مکمل ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئے طاقتور حلقوں نے اپنے انداز میں دوبارہ ترتیب دیا۔
سیف الاسلام کو کبھی بھی اس نئے نظام میں مکمل جگہ نہیں دی گئی بلکہ وہ ایک متبادل علامت کے طور پر موجود رہے جو بعض حلقوں کیلئے خطرہ بن سکتی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ 2021 کے صدارتی انتخابات، جو بعد ازاں منسوخ ہو گئے، میں سیف کی مقبولیت حفتر سے زیادہ دکھائی دی تھی۔ قتل سے 48 گھنٹے قبل حفتر کے بیٹے صدام حفتر اور ابراہیم دبیبہ کی پیرس میں خفیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر عبوری حکومت اور اقتدار کی تقسیم پر بات ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سیف انتخابی عمل میں شامل ہوتے تو وہ اس سیاسی بندوبست کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتے تھے۔ سیف کو پانچ روز بعد بنی ولید میں دفن کیا گیا، جبکہ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ انہیں سرت میں دفن کیا جائے، مگر یہ اجازت نہیں دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق تعزیتی اجتماعات کو بھی روکا گیا اور عوامی سوگ منانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب تک اس قتل میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی واضح تحقیقات کی خبر سامنے آئی ہے۔ لیبیا میں کسی قتل کے بعد چھا جانے والی خاموشی اکثر اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اصل جواب اسی خاموشی میں پوشیدہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











