بدھ، 11-فروری،2026
بدھ 1447/08/23هـ (11-02-2026م)

خراٹے لینے والے ہوجائیں ہوشیار!!! نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

11 فروری, 2026 11:35

خراٹے لینا عام طور پر مزاحمت یا مزاحمت کے بغیر نیند کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت صرف دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بلکہ آپ کی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو سکتی ہے۔

ہلکی نوعیت کے خراٹے اکثر اوپری سانس کی نالی میں معمولی رکاوٹ کی وجہ سے آتے ہیں۔ ہوا کے گزرنے سے حلق کے نرم حصوں میں کمپن پیدا ہوتی ہے اور آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ عموماً خطرناک نہیں ہوتے لیکن ساتھ سونے والوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔

تاہم، اگر خراٹے مسلسل، اونچی آواز کے ساتھ ہوں اور نیند کے دوران سانس رکنے کے علامات نظر آئیں تو یہ سلیپ ایپنیا کی علامت ہو سکتی ہے۔ سلیپ ایپنیا میں بار بار سانس بند ہونے سے آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق مسلسل خراٹے دل کے امراض، بلند بلڈ پریشر، فالج اور ذیابیطس جیسے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی اور نیند کی خرابیاں ہڈیوں کی کمزوری، جسمانی سوزش اور تھکن کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ اگر خراٹے زیادہ ہوں، سانس رکنے کے آثار نظر آئیں یا دن میں غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ مناسب تشخیص اور علاج سے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ ذاتی صحت کے مسائل کے لیے ہمیشہ معالج سے مشورہ کریں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔