امریکہ ایران کشیدگی اور بھارت کی بڑھتی طلب کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں آج تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور بھارت میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب قرار دی جا رہی ہے۔
سنگاپور سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 57 سینٹ اضافے کے بعد 69.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 56 سینٹ اضافے کے ساتھ 64.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اگرچہ جاری ہیں، لیکن صورتحال اب بھی نازک ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے گرد خطرے کا عنصر قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔
ایل ایس ای جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے متعلق پابندیاں، ایرانی تجارت سے جڑی ٹیرف دھمکیاں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی نے مارکیٹ میں ایک مستقل خدشہ پیدا کر رکھا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات نے تہران کو واشنگٹن کی سنجیدگی جانچنے کا موقع دیا اور سفارتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے مناسب اتفاق رائے بھی سامنے آیا۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی ریفائنریز واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کی کوششوں کے باعث روسی تیل کی خریداری سے گریز کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت مشرق وسطیٰ اور مغربی افریقہ سے تیل کی خریداری میں اضافہ کر رہا ہے، جس کا اثر عالمی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار امریکی توانائی معلوماتی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے ہفتہ وار تیل کے ذخائر کے اعداد و شمار کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے سروے کے مطابق اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 6 فروری تک کے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 8 لاکھ بیرل اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیزل اور پٹرول کے ذخائر میں بالترتیب 13 لاکھ اور 4 لاکھ بیرل کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ اسی ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں 13.4 ملین بیرل کا نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










