جمعرات، 12-فروری،2026
جمعرات 1447/08/24هـ (12-02-2026م)

امریکہ میں ووٹنگ کیلئے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے کا بل منظور کرلیا گیا

12 فروری, 2026 10:15

امریکی ایوانِ نمائندگان نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے امریکی شہریت کا ثبوت فراہم کرنا لازمی قرار دینے کا بل منظور کرلیا ہے۔

ارکانِ کانگریس نے 218 کے مقابلے میں 213 ووٹوں سے سیو امریکا ایکٹ کی منظوری دی، جس میں صرف ایک ڈیموکریٹ نے ریپبلکنز کا ساتھ دیا۔ یہ بل اب ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ میں جائے گا جہاں اس پر ووٹنگ متوقع ہے، تاہم امکان ہے کہ یہ ساٹھ ووٹوں کی وہ حد حاصل نہیں کر سکے گا جو فلبسٹر کو ختم کرنے اور بل کی منظوری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

یہ قانون سازی دراصل ان انتخابی اقدامات کا تسلسل ہے جو 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران سامنے آئے تھے، جب ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں، حالانکہ ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ اسی نوعیت کا بل گزشتہ سال اپریل اور 2024 میں بھی ایوان سے منظور ہوا تھا مگر سینیٹ میں منظور نہ ہو سکا۔

ریپبلکن اراکین نے اس قانون میں یہ شق بھی شامل کی ہے کہ آئندہ وفاقی انتخابات میں پولنگ اسٹیشن پر یا بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے والوں کے لیے فوٹو شناختی کارڈ پیش کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے پیو ریسرچ سینٹر سمیت مختلف سرویز کا حوالہ دیا جن کے مطابق 83 فیصد ووٹرز، جن میں 71 فیصد ڈیموکریٹس بھی شامل ہیں، فوٹو آئی ڈی کی شرط کی حمایت کرتے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس بل کو عام فہم قانون سازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی انتخابات کا فیصلہ امریکی شہری ہی کریں۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے اس قانون کو ووٹ دبانے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں لایا جا رہا ہے جب آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان میں برتری حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔

ریپبلکنز حالیہ خصوصی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مسلسل کامیابیوں سے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، جن میں ٹیکساس کی ریاستی سینیٹ کی نشست بھی شامل ہے جسے ایک ویک اپ کال قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی امور کی نگرانی کرنے والی ہاؤس کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن جو مورل نے کہا کہ سیو امریکا ایکٹ دراصل ریپبلکنز کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اس سال اپنی طاقت کو مستحکم کرنا ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی کے برینن سینٹر فار جسٹس نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون کے باعث لاکھوں امریکی شہری ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پاسپورٹ، پیدائش کے سرٹیفکیٹ یا دیگر شہریت ثابت کرنے والی دستاویزات فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔

ریپبلکنز ایک اور وسیع انتخابی بل کی تیاری بھی کر رہے ہیں جسے میک الیکشنز گریٹ اگین ایکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت کاغذی بیلٹ کے استعمال کو لازمی بنایا جائے گا، بذریعہ ڈاک ووٹنگ کو محدود کیا جائے گا اور وفاقی عام انتخابات میں رینکڈ چوائس ووٹنگ پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس بل پر منگل کے روز ہاؤس ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں سماعت بھی کی گئی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔