جمعرات، 12-فروری،2026
جمعرات 1447/08/24هـ (12-02-2026م)

بیانیہ، خوف اور حقیقت، بلوچستان کی زمینی صورتحال پر سکیورٹی فیصلوں کے پیچیدہ پہلو

12 فروری, 2026 12:38

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی جنید بلوچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اہم انٹیلیجنس ذرائع سے گفتگو کے دوران یہ سوال اٹھایا کہ جب دہشتگرد ایک جگہ موجود ہوتے ہیں اور اردگرد عام لوگ بھی جمع ہوتے ہیں تو جدید ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور ڈرونز کی موجودگی کے باوجود کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

صحافی کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ زمینی صورتحال بظاہر سادہ دکھائی دیتی ہے لیکن سکیورٹی ادارے اس سے مختلف منظر دیکھتے ہیں۔ شدت پسند عناصر مبینہ طور پر مقامی لوگوں کو اسلحے کے زور پر اپنے اردگرد کھڑا کر دیتے ہیں تاکہ وہ انسانی ڈھال بن جائیں اور فورسز فوری کارروائی نہ کر سکیں۔

ان ذرائع کے مطابق جب مسلح افراد آبادی والے علاقوں میں آتے ہیں تو مبینہ طور پر لوگوں کو گھروں سے نکال کر ہجوم بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خوف کے باعث وہاں موجود ہوتے ہیں، جس سے آپریشنل فیصلے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسی وجہ سے سکیورٹی فورسز کارروائی سے گریز کرتی ہیں کیونکہ ایسی صورت میں عام شہریوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ ماضی میں ایسے واقعات بھی پیش آئے جہاں شہری ہلاکتوں کے بعد الزامات کا تبادلہ ہوا اور حقیقت پر ابہام پیدا ہوا۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں کے لیے شہری جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ممکنہ اہداف کے باوجود کارروائی نہیں کی جاتی۔ ہر شہری کی جان کو اہم سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

صحافی کے بیان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ بعض مواقع پر مقامی لوگوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنوائی جاتی ہیں جو بظاہر رضاکارانہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن پس منظر میں خوف اور دباؤ موجود ہوتا ہے۔ کیمرے میں نظر آنے والا منظر ہمیشہ مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔