ہزاروں برطانوی شہری اسرائیلی فوج کا حصہ بن کر غزہ میں نسل کشی کرتے رہے : رپورٹ

برطانوی تحقیقاتی صحافتی ادارے ڈی کلاسیفائیڈ یو نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران دو ہزار سے زائد برطانوی شہری اسرائیلی دفاعی افواج میں خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ معلومات ایک فریڈم آف انفارمیشن درخواست کے ذریعے حاصل کی گئیں جو اسرائیلی فوج کو این جی او ہتسلخا کے وکیل ایلاد مین کی جانب سے بھیجی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک آئی ڈی ایف میں خدمات انجام دینے والے افراد میں بڑی تعداد دوہری یا ایک سے زائد شہریت رکھنے والوں کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہزار 686 برطانوی نژاد اسرائیلی شہری اور مزید 383 ایسے افراد جن کے پاس برطانوی، اسرائیلی اور ایک اور شہریت تھی، اس عرصے کے دوران آئی ڈی ایف کا حصہ رہے۔
یہ افراد ان پچاس ہزار سے زائد فوجیوں میں شامل تھے، جن کے پاس اسرائیلی کے ساتھ کم از کم ایک اور ملک کی شہریت بھی موجود تھی۔ اس فہرست میں امریکہ، روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بھی نمایاں بتائی گئی ہے۔
اس سے قبل صرف ان برطانوی شہریوں کا ڈیٹا دستیاب تھا، جو اسرائیلی شہریت نہیں رکھتے تھے اور لون سولجرز کہلاتے تھے، جن کی تعداد محض 54 بتائی گئی تھی۔
اس نئے انکشاف کے بعد برطانوی حکام پر قانونی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ اب تک غزہ سے واپس آنے والے کسی شہری کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
پبلک انٹرسٹ لا سینٹر کے وکیل پال ہیرون نے کہا کہ اگر معتبر شواہد برطانوی شہریوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں سے جوڑتے ہیں تو احتساب ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے اگر ایسے یونٹس میں خدمات انجام دے چکے ہیں جن پر مظالم کے الزامات ہیں تو حکام کو فوری تحقیقات کرنی چاہئیں۔
ڈی کلاسیفائیڈ کے ایک اور معاون حمزہ یوسف نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ کچھ برطانوی شہری اسرائیلی فوج کے انتہائی متنازعہ جنگی یونٹس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
برطانوی دفتر خارجہ نے ان اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن یہ تصدیق کی کہ وہ آئی ڈی ایف میں شامل برطانوی شہریوں کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔
گزشتہ برس میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ کو دس برطانوی شہریوں کے خلاف شکایت بھی دی گئی تھی، جس میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے جیسے الزامات شامل تھے۔ یہ شکایت پبلک انٹرسٹ لا سینٹر اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے تحقیقی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد لون سولجرز بھی اس عرصے میں آئی ڈی ایف کا حصہ رہے۔ ان میں سے 33 افراد تزبار پروگرام کے ذریعے اسرائیل گئے اور فوج میں شامل ہوئے۔
ماہرین کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی نگرانی یا تحقیقات نہ کرنا بھی ایک اہم قانونی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد برطانوی شہریوں کی کسی غیر ملکی فوج میں شمولیت فارن انرولمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی بھی قرار دی جا سکتی ہے۔
انٹرنیشنل سینٹر آف جسٹس فار فلسطینز کے ترجمان نے کہا کہ ممکنہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو بغیر تحقیقات کے برطانیہ واپس آنے دینا قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









