شمالی کوریا کے رہنما بیٹی کو جانشینی کے لیے تیار کر رہے ہیں : جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اپنی بیٹی کم جو اے کو ممکنہ جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔
ارکانِ پارلیمان کو بند کمرہ بریفنگ میں قومی انٹیلی جنس سروس نے بتایا کہ کم جو اے کی حالیہ دنوں میں مختلف سرکاری اور عسکری تقریبات میں نمایاں موجودگی نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ وہ اب جانشینی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
مسلح افواج کے یومِ تاسیس کی تقریب ہو یا کمسوسان پیلس آف دی سن کا دورہ، کم جو اے ہر اہم موقع پر اپنے والد کے ہمراہ دکھائی دی ہیں۔
کمسوسان پیلس آف دی سن شمالی کوریا کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ کم اِل سنگ اور کم جونگ اِل کی آخری آرام گاہ ہے جو کم جونگ اُن کے دادا اور والد تھے۔
جنوبی کوریائی سیاست دانوں کے مطابق کم جو اے نہ صرف تقریبات میں شریک ہو رہی ہیں بلکہ بعض پالیسی معاملات پر رائے دیتے ہوئے بھی دیکھی گئی ہیں۔ اگر رواں ماہ ورکرز پارٹی کانگریس میں کم جو اے کو کوئی باضابطہ عہدہ یا اعزاز دیا جاتا ہے تو جانشینی سے متعلق قیاس آرائیاں مزید مضبوط ہو جائیں گی۔
کم جو اے کی درست عمر اور ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی نو عمری میں ہیں۔ ان کی پہلی عوامی نمائش 2022 میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجرباتی لانچ کے موقع پر ہوئی تھی جہاں وہ اپنے والد کے ساتھ موجود تھیں۔ اس کے بعد سے وہ متعدد ریاستی تقریبات، فوجی مظاہروں اور اہم دوروں میں کم جونگ اُن کے ساتھ نظر آتی رہی ہیں۔
جنوری میں انہیں ملٹی راکٹ لانچ سسٹم کے تجربے کے موقع پر بھی اپنے والد کے ہمراہ دیکھا گیا۔ ستمبر میں وہ بکتر بند ٹرین کے ذریعے بیجنگ گئیں، جہاں جاپان کی شکست کے 80 سال مکمل ہونے پر فوجی پریڈ میں شرکت کی اور چینی و روسی قیادت کے ساتھ بھی موجود رہیں۔
سیول کی خفیہ ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ کم جونگ اُن اس وقت ایک بڑے آبدوز منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں، جو بظاہر 10 آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ اس آبدوز کو ممکنہ طور پر جوہری ری ایکٹر سے چلانے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










