کم آمدن والے افراد کیلئے بڑی خوشخبری

Big good news for low-income individuals
خیبر پختونخوا کابینہ نے رمضان المبارک کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق اس سال 10 لاکھ 63 ہزار کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ ہر مستحق خاندان کو اوسطاً 12 ہزار 500 روپے دیے جائیں گے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر وزیراعلیٰ نے رمضان پیکیج کی رقم میں 25 فیصد اضافہ بھی منظور کیا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سہولت مل سکے۔
کابینہ اجلاس میں ہندو میرج ترمیمی بل اور کیلاش میرج بل کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے ارکان کی تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔ لیویز شہداء کے لواحقین کے لیے 385 ملین روپے کی اضافی گرانٹ منظور کی گئی تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کی جا سکے۔
اجلاس میں ضلع ٹانک میں نئی تحصیل کے قیام کی منظوری دی گئی۔ ملازمین کے اولڈ ایج بینیفٹس ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی ازسرنو تشکیل کی بھی اجازت دی گئی۔ ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال ڈی آئی خان کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی تاکہ طبی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔
صوبے میں آن لائن تعلیم کے پائلٹ منصوبے کی لاگت بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ 958 ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں آئی ٹی لیبز فعال بنانے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی تعمیر کی اجازت دی گئی۔ ڈبلیو ایس ایس پی حدود میں آر پی سی مین ہول کورز کی تنصیب کا منصوبہ بھی منظور ہوا۔
کابینہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی 2026 تا 2030 کے مسودے کی منظوری دی۔ ہزارہ ڈویژن میں لائیو اسٹاک کے ذریعے روزگار میں بہتری کے منصوبے میں نظرثانی کی بھی اجازت دی گئی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکیج کے تحت کارڈز کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع کو 12 لاکھ کارڈز بھجوا دیے گئے ہیں۔ اس پیکیج کے تحت 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق کارڈز کی تقسیم کا عمل یکم مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا تاکہ رمضان سے قبل امداد مستحقین تک پہنچ سکے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












