ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے : ٹرمپ

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں بند کمرے میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں ایران سے امریکی مذاکرات اور غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان کے راستے سرکاری گاڑی میں پہنچے اور ملاقات سے قبل انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
اسی ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی رکنیت پر دستخط کیے، جس کے بعد اسرائیل اس بورڈ کا حصہ بن گیا، تاہم اسرائیلی پارلیمان میں اس اقدام کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانیوں سے جتنا چاہیں بات کریں گے اور اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو دوسرا مرحلہ ایران کے لیے بہت سخت ہوگا لیکن ان کی خواہش یہی ہے کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا ایران ڈیل کے لیے کوئی وقت مقرر ہے، ٹرمپ نے جواب دیا کہ شاید ایک مہینے کے اندر کچھ پیش رفت ہو جائے اور یہ معاملہ بہت جلد طے ہونا چاہیے۔
اسرائیلی صدر کی جانب سے نیتن یاہو کو معاف کرنے سے انکار کی خبر پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر شرم آنی چاہیے اور سخت الفاظ استعمال کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو اسے انتہائی تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں اور خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایک ڈیل چاہتا ہے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کا خواہاں ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورتحال ایران کے لیے نہایت سنگین ہو جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ ایک ماہ کے دوران کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے اور یہ معاملہ جلد طے ہونا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









