سعودیہ اور یو اے ای کے درمیان کشیدگی خطرہ بنتی جا رہی ہے : فارن افیئرز

فارن افیئرز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض معاشی مقابلہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی و سیاسی توازن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں محمد بن سلمان اور محمد بن زاید کے قریبی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کی علامت تھے، مگر اب یہی تعلقات بتدریج مسابقت اور مفادات کے ٹکراؤ میں بدل چکے ہیں۔
یمن کی جنگ، اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار کے کوٹے اور علاقائی سفارت کاری جیسے معاملات نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے جہاں تعاون کی جگہ مقابلے نے لے لی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل محاذ اب معاشی میدان میں کھل چکا ہے، جہاں سعودی عرب کا ویژن 2030 اور امارات کا پہلے سے قائم مضبوط معاشی ڈھانچہ آمنے سامنے ہیں۔
سعودی حکومت کی یہ نئی پالیسی کہ غیر ملکی کمپنیاں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹر ریاض منتقل کریں، براہِ راست دبئی اور ابوظہبی کے بزنس ماڈل کے لیے چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔ اس پالیسی نے خلیجی خطے میں کاروباری مرکزیت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سرمایہ کاروں کو ایک مشکل انتخاب کی طرف دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر یہ مسابقت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو خلیج تعاون کونسل کے اندر گروپ بندی پیدا ہو سکتی ہے جس سے جی سی سی کی اجتماعی طاقت کمزور پڑ جائے گی۔ چھوٹے خلیجی ممالک کو اگر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے پر مجبور ہونا پڑا تو اس کے اثرات علاقائی سلامتی اور سفارتی ہم آہنگی پر مرتب ہوں گے۔
فارن افیئرز کے مطابق اس صورت حال سے سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہو سکتا ہے جو خلیجی ممالک کی اس دراڑ کو اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
یہ کشیدگی امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے بھی ایک بڑا سفارتی چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک امریکی دفاعی ساز و سامان اور سیاسی حمایت کے بڑے خریدار اور اتحادی ہیں۔ اگر واشنگٹن یا یورپی دارالحکومتوں نے کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ دکھایا تو وہ دوسرے ملک میں اپنے اثر و رسوخ اور معاشی مواقع کھو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے لیے اب توازن برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ریاستیں خطے میں اس کی پالیسیوں کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔
فارن افیئرز اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سعودی عرب اور امارات کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تناؤ صرف دو ممالک کا باہمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن تک پھیل سکتے ہیں۔
اگر اس صورت حال کو سفارتی حکمت عملی اور تدبر سے نہ سنبھالا گیا تو خطہ ایک نئے غیر یقینی دور میں داخل ہو سکتا ہے جہاں علاقائی دشمن اس دراڑ سے فائدہ اٹھائیں گے۔
موجودہ عالمی حالات میں جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نئی حکمت عملیاں ترتیب دے رہا ہے اور ایران، اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات اہم مرحلے میں ہیں، یہ کشیدگی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان یہ مسابقت مستقبل میں پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کی سمت متعین کر سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









