جمعہ، 13-فروری،2026
جمعہ 1447/08/25هـ (13-02-2026م)

آئندہ ہفتے ہونے والے بورڈ آف پیس اجلاس میں غزہ کے لیے بڑے اعلانات متوقع

13 فروری, 2026 13:38

واشنگٹن میں آئندہ ہفتے ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو اور سکیورٹی کے حوالے سے بڑے اعلانات متوقع ہیں جن کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکومت کے دو سینیئر عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس میں کم از کم بیس ممالک کے وفود شریک ہوں گے۔

حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز اور ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے قیام سے متعلق منصوبوں کا اعلان کریں گے۔ اس سے قبل اجلاس کے انعقاد کی اطلاعات تو تھیں لیکن اس میں ہونے والے اعلانات کی نوعیت واضح نہیں کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے 23 جنوری کو ڈیووس میں ’بورڈ آف پیس‘ کی دستاویز پر دستخط کیے تھے، جس کی بعد ازاں اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے ذریعے توثیق کی گئی۔

پاکستان اور انڈونیشیاء سمیت مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک جن میں سعودی عرب، مصر، ترکی اور قطر شامل ہیں، اس کے برعکس بعض مغربی ممالک اور امریکہ کے روایتی اتحادی اس منصوبے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی اعلان کر چکے ہیں کہ اسرائیل اس بورڈ میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ پہلے یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں دیگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی کردار ادا کرے گا، جس پر بعض مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ادارہ کہیں اقوام متحدہ کے متوازی نہ بن جائے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پہلے اجلاس میں توجہ صرف غزہ کے معاملات پر مرکوز رکھی جائے گی۔

بیان کے مطابق صدر ٹرمپ غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز کا اعلان کریں گے، جن میں بورڈ میں شامل ممالک کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت بھی شامل ہوگی۔ ایک امریکی عہدیدار نے ان عطیات کو فراخدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ان کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی بلکہ مختلف ممالک خود پیشکش لے کر آئے۔

عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس میں جمع ہونے والی رقوم کی تفصیلات بھی بیان کریں گے۔ غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی صدر ٹرمپ کے گزشتہ برس ستمبر میں پیش کیے گئے غزہ پلان کے اگلے مرحلے کا حصہ ہے۔

اس پلان کے ابتدائی مرحلے کے تحت 10 اکتوبر کو جنگ بندی شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں حماس نے یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ اسرائیل نے قیدی فلسطینیوں کو چھوڑا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کئی ممالک سٹیبلائزیشن فورس کے لیے ہزاروں فوجی اہلکار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جنہیں آئندہ مہینوں میں غزہ میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔

غزہ کے معاملے میں سب سے بڑا چیلنج حماس کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا ہے کیونکہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔

صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق حماس کے وہ ارکان جو بقائے باہمی کا عہد کرتے ہوئے ہتھیار رکھ دیں گے انہیں عام معافی دی جائے گی جبکہ جو ملک چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ ان ممالک میں جا سکیں جو انہیں قبول کرنے پر آمادہ ہوں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔