ڈالر روکو، ریال گراؤ، احتجاج بڑھاؤ : ایران کے معاملے پر امریکی اعتراف

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے دانستہ طور پر ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کی تاکہ ایرانی کرنسی ریال تیزی سے گرے اور عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔
28 دسمبر 2025 کو تہران کے دکانداروں نے ریال کی تاریخی گراوٹ کے بعد اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج شروع کیا، اور یہ مظاہرے جلد ہی دیگر صوبوں تک پھیل گئے۔
ماہرین کے مطابق “ڈالر کی قلت” اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی ملک کے پاس بیرونی دنیا سے اشیاء خریدنے کے لیے امریکی ڈالر دستیاب نہ ہوں، کیونکہ عالمی تجارت خصوصاً تیل اور مشینری کی خریداری میں ڈالر بنیادی کرنسی ہے۔
قطری میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی کے ماہر معاشیات محمد رضا فرزانیگان کے مطابق ایران میں یہ قلت دو بڑے ذرائع تیل کی برآمدات اور عالمی بینکاری نظام تک رسائی بند کر کے پیدا کی گئی۔
امریکا نے ایرانی تیل پر سخت پابندیاں عائد کر کے خریداروں اور فروخت کنندگان کو ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی، جس سے ایران کے زرمبادلہ کے ذخائر بیرونِ ملک پھنس گئے اور نئے ڈالر کی آمد رک گئی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ نے ایسی حکمت عملی اپنائی جس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی تیزی سے گری، مہنگائی بڑھی اور عوام احتجاج پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر بھی کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کامیاب رہی کیونکہ دسمبر میں ایران کی معیشت تقریباً بیٹھ گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں ایرانی ریال ایک ڈالر کے مقابلے میں پندرہ لاکھ تک گر گیا، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح تقریباً سات لاکھ تھی، اور خوراک کی قیمتوں میں اوسطاً بہتر فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی نے ایران کو درآمدات کم کرنے پر مجبور کیا، جس کے باعث صنعتی پیداوار کے لیے درکار مشینری اور خام مال کی خریداری بھی متاثر ہوئی۔
تحقیقی مطالعے کے مطابق اگر امریکی اقدامات نہ ہوتے تو 2012 سے 2019 کے درمیان ایران کا متوسط طبقہ نمایاں حد تک بڑھ سکتا تھا، مگر پابندیوں کے باعث اس میں بڑی کمی آئی اور لوگوں کی قوتِ خرید ختم ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ “معاشی ریاستی حکمت عملی” ہے جس میں بغیر گولی چلائے کسی ملک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، مگر اس کے انسانی اثرات گہرے اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔
ماہر قانون بروس فین کے مطابق معاشی پابندیاں عموماً حکومتیں گرانے میں کامیاب نہیں ہوتیں، بلکہ عوام کی روزمرہ بقا اولین ترجیح بن جاتی ہے۔ مبصرین کا سوال یہ ہے کہ آیا ڈالر کی قلت جیسی حکمت عملی ایران کی قیادت کو جھکا سکے گی یا یہ صرف عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










